بجھا دیتا ہوس کی تشنگی وہ جام ہے ساقی
بجھا دیتا ہوس کی تشنگی وہ جام ہے ساقی
جہاں میں جس سے ملتا ہوں وہی ناکام ہے ساقی
نشہ گہرا کہاں اتنا کہ ہوں چودہ طبق روشن
ترقی یافتہ ملکوں کی بادہ خام ہے ساقی
مرے اطراف ہے تیرہ شبی میں نور کا حلقہ
کہ شمع راہ میخانے سے گھر تک جام ہے ساقی
کتاب سیرت و اخلاق دے انساں کے ہاتھوں میں
ترقی دانش و ایجاد کی ناکام ہے ساقی
سنا اقبال عصیاں خلوتوں میں وجہ بخشش ہے
کلیساؤں میں یہ طرز عبادت عام ہے ساقی
وہی ظالم ہیں شعلہ بار انسانوں کی بستی پر
وہ اسرائیل جن پر بارش اکرام ہے ساقی
عمل پیرا وہی ہیں خوش خور و خوش ذی پہ سختی سے
زباں پہ جن کی فاقہ کش کا ہر دم نام ہے ساقی
کہاں نان جویں اور روغن زیتون او شیخ دیں
رؤسا کے یہاں میلان دعوت عام ہے ساقی
رواج مدرسہ ہے دوپہر کے وقت قیلولہ
یہاں شب زندہ داری مائل آرام ہے ساقی
خفا ہے مدرسہ اک صدق گوئے ناگپوری سے
ترا مے خوار اس ماحول میں بدنام ہے ساقی