خوش کام کرو خاطر ناکام ہمیں دو

خوش کام کرو خاطر ناکام ہمیں دو
خالی ہو کہ لبریز کوئی جام ہمیں دو


مایوس نہیں ہم ابھی اصلاح بشر سے
ہر کوئے غلط منزل بدنام ہمیں دو


جولاں گہہ خاصان محبت سے گزارو
کہتے نہیں ہم شاہرہ عام ہمیں دو


آراستہ گیسو سے عطا ہو فن سعدی
نظروں سے ادب پارۂ خیام ہمیں دو


مسلک ہے محبت کا ولاتمام من اللہ
کیوں کشمکش خاطر ناکام ہمیں دو


گنجان ہوا گیسوؤں والوں سے محلہ
ہم طرز حسینان اودھ شام ہمیں دو


مانیؔ یہی سقراط کا سجادہ نشیں ہے
دینا ہے اسے زہر بھرا جام ہمیں دو