عشق افشا ہو گیا ہم روشنی میں آ گئے

عشق افشا ہو گیا ہم روشنی میں آ گئے
کتنے پردے کام اک بے پردگی میں آ گئے


راہ ممنوعہ کی جانب بھی قدم اٹھ ہی گئے
جس طرف آنا نہ تھا ہم بے خودی میں آ گئے


نا خدا کا کام بھی موج تلاطم نے کیا
ڈوبنے والے حد ساحل رسی میں آ گئے


غم کی کیفیت نے آنسو زیب مژگاں کر دئے
شام ہوتے ہی ستارے روشنی میں آ گئے


مانیؔ کہہ دو شاعری جزویست از پیغمبری
ہم پئے تبلیغ ملک دلبری میں آ گئے