محمود کاظم کی غزل

    اپنے سب دفتر کے ساتھی یار ہمارا کوئی نہیں

    اپنے سب دفتر کے ساتھی یار ہمارا کوئی نہیں کرسی میز کا ان سے رشتہ دل کا رشتہ کوئی نہیں در پہ مرے وہ جب تک پہنچا کھل گئے راہ کے دروازے میں نے سوچا تھا کہ یہاں پر اس کا شناسا کوئی نہیں وہ بھی اچھے آپ بھی اچھے کون برا ہے لیکن ہاں جو ہم کو اچھا کہتا ہے اس سے اچھا کوئی نہیں آؤ ذرا چل کر ...

    مزید پڑھیے

    بدلتے رنگوں کی تصویر ہو چکا ہوں میں

    بدلتے رنگوں کی تصویر ہو چکا ہوں میں کچھ ایسا لگتا ہے تسخیر ہو چکا ہوں میں بجھا دو مشعلیں اب دیر ہو چکی یارو خود اپنے پاؤں کی زنجیر ہو چکا ہوں میں میں ایک خواب تھا پہلے حقیقتوں سے پرے زمانہ گزرا کہ تعبیر ہو چکا ہوں میں اتارا جائے گا مجھ کو نئی زمینوں پر صحیفوں کے لئے تحریر ہو ...

    مزید پڑھیے

    اس جگہ کون کون تھا لکھیے

    اس جگہ کون کون تھا لکھیے بھید کس طرح کھل گیا لکھیے جرم کو جرم کی سزا لکھیے درد کو درد کی دوا لکھیے بات تحریر تک جب آ پہنچی وہ برا ہے تو پھر برا لکھیے کوئی راضی نہیں گواہی پر سب مصر ہیں کہ حادثہ لکھیے بات تو یہ ہے بات کچھ بھی نہیں آپ چاہیں تو حاشیہ لکھیے سچ ہے جینے کا حق نہیں ...

    مزید پڑھیے

    وہ ایک روپ تھا میرا جو تم نے دیکھا تھا

    وہ ایک روپ تھا میرا جو تم نے دیکھا تھا میں تہ بہ تہ تھا بجز تہہ کے درمیاں کیا تھا میں دشت بو الہوسی میں جہاں گرا تھک کر وہاں سے دور بہت دور میرا سایا تھا نچوڑ لو مجھے پیکر جو دیکھنا ہو مرا میں قطرہ قطرہ تھا اس دم بھی جبکہ دریا تھا میں آفتاب لئے سر پہ جس گھڑی پہنچا تمام حشر کے ...

    مزید پڑھیے

    اس کو چشم پر آب دے دینا

    اس کو چشم پر آب دے دینا قطرہ قطرہ حساب دے دینا کھل نہ پائے اگر وہ باتوں میں اس کو تھوڑی شراب دے دینا حوصلہ مند اگر ملیں کچھ لوگ ان کو میرے یہ خواب دے دینا شوق سے آپ کیجئے باتیں مجھ کو کوئی کتاب دے دینا کس کو فرصت ہے سب پڑھے دیواں میرؔ کا انتخاب دے دینا میری جانب وہ جب چلے ...

    مزید پڑھیے

    ان دنوں بھی جبکہ وہ تصویر کے پیکر میں تھا

    ان دنوں بھی جبکہ وہ تصویر کے پیکر میں تھا میں کئی شکلوں میں ہر منظر کے پس منظر میں تھا تھا غبار آلود وہ تب بھی نہ پہچانا اسے اب کے جب دیکھا تو وہ ملبوس سیم و زر میں تھا یہ کھنڈر جو دیکھتے ہو تھا کبھی اک آسماں اتنا اونچا تھا کہ سایہ بھی نہ بام و در میں تھا قتل کا الزام اس نے کہہ کے ...

    مزید پڑھیے

    نکہت گل سے بوئے یار آئے

    نکہت گل سے بوئے یار آئے اب کے یوں فصل نو بہار آئے ہم کو ملتا بھی کیا کہ خود ہم ہی لے کے دامان تار تار آئے ہم خطاؤں کا کر چکے اقرار اب یہ کیوں آپ شرمسار آئے آئے دیوانہ وار باد صبا ہوش اڑاتی ہوئی بہار آئے اہل وحشت کی بزم میں کاظمؔ بن کے دیوانے ہوشیار آئے

    مزید پڑھیے