وہ ایک روپ تھا میرا جو تم نے دیکھا تھا

وہ ایک روپ تھا میرا جو تم نے دیکھا تھا
میں تہ بہ تہ تھا بجز تہہ کے درمیاں کیا تھا


میں دشت بو الہوسی میں جہاں گرا تھک کر
وہاں سے دور بہت دور میرا سایا تھا


نچوڑ لو مجھے پیکر جو دیکھنا ہو مرا
میں قطرہ قطرہ تھا اس دم بھی جبکہ دریا تھا


میں آفتاب لئے سر پہ جس گھڑی پہنچا
تمام حشر کے میدان میں اندھیرا تھا


مرے یہ گھر میں کہاں آ کے کھو گیا صحرا
میں جب چلا تھا مرے ساتھ ساتھ صحرا تھا


لہو لہو تھا ہم اہل قلم کا دل یوں تو
ہمارے ذہن کا ہر گھاؤ دل سے گہرا تھا