اس کو چشم پر آب دے دینا
اس کو چشم پر آب دے دینا
قطرہ قطرہ حساب دے دینا
کھل نہ پائے اگر وہ باتوں میں
اس کو تھوڑی شراب دے دینا
حوصلہ مند اگر ملیں کچھ لوگ
ان کو میرے یہ خواب دے دینا
شوق سے آپ کیجئے باتیں
مجھ کو کوئی کتاب دے دینا
کس کو فرصت ہے سب پڑھے دیواں
میرؔ کا انتخاب دے دینا
میری جانب وہ جب چلے کاظمؔ
ہاتھ میں آفتاب دے دینا