اپنے سب دفتر کے ساتھی یار ہمارا کوئی نہیں
اپنے سب دفتر کے ساتھی یار ہمارا کوئی نہیں
کرسی میز کا ان سے رشتہ دل کا رشتہ کوئی نہیں
در پہ مرے وہ جب تک پہنچا کھل گئے راہ کے دروازے
میں نے سوچا تھا کہ یہاں پر اس کا شناسا کوئی نہیں
وہ بھی اچھے آپ بھی اچھے کون برا ہے لیکن ہاں
جو ہم کو اچھا کہتا ہے اس سے اچھا کوئی نہیں
آؤ ذرا چل کر تو دیکھیں کون ہیں یہ کیسے ہیں لوگ
اک مدت سے اس بستی میں آتا جاتا کوئی نہیں
رات ہوا کچھ تیز تھی شاید بول رہے تھے دروازے
پوچھتے کیوں ہو کون آیا تھا کون آیا تھا کوئی نہیں
گھر کو تو ہمسائے نے چھینا سائے بن کے رہے کاظمؔ
خط کا جواب نہ تم اب دینا اپنا ٹھکانا کوئی نہیں