بدلتے رنگوں کی تصویر ہو چکا ہوں میں

بدلتے رنگوں کی تصویر ہو چکا ہوں میں
کچھ ایسا لگتا ہے تسخیر ہو چکا ہوں میں


بجھا دو مشعلیں اب دیر ہو چکی یارو
خود اپنے پاؤں کی زنجیر ہو چکا ہوں میں


میں ایک خواب تھا پہلے حقیقتوں سے پرے
زمانہ گزرا کہ تعبیر ہو چکا ہوں میں


اتارا جائے گا مجھ کو نئی زمینوں پر
صحیفوں کے لئے تحریر ہو چکا ہوں میں


مرا وجود ہے عبرت کے واسطے کاظمؔ
کسی گناہ کی تعزیر ہو چکا ہوں میں