نکہت گل سے بوئے یار آئے

نکہت گل سے بوئے یار آئے
اب کے یوں فصل نو بہار آئے


ہم کو ملتا بھی کیا کہ خود ہم ہی
لے کے دامان تار تار آئے


ہم خطاؤں کا کر چکے اقرار
اب یہ کیوں آپ شرمسار آئے


آئے دیوانہ وار باد صبا
ہوش اڑاتی ہوئی بہار آئے


اہل وحشت کی بزم میں کاظمؔ
بن کے دیوانے ہوشیار آئے