ان دنوں بھی جبکہ وہ تصویر کے پیکر میں تھا

ان دنوں بھی جبکہ وہ تصویر کے پیکر میں تھا
میں کئی شکلوں میں ہر منظر کے پس منظر میں تھا


تھا غبار آلود وہ تب بھی نہ پہچانا اسے
اب کے جب دیکھا تو وہ ملبوس سیم و زر میں تھا


یہ کھنڈر جو دیکھتے ہو تھا کبھی اک آسماں
اتنا اونچا تھا کہ سایہ بھی نہ بام و در میں تھا


قتل کا الزام اس نے کہہ کے یہ رد کر دیا
وقت وہ دفتر کا تھا میں اس گھڑی دفتر میں تھا


تھی وہ شہرت کی ہوس یا اشتہاروں کا فریب
لاپتہ چھپتا تھا جب اخبار میں وہ گھر میں تھا


کیا بتاؤں دوستو اک حشر ساماں کا تھا ساتھ
دیر اتنی یوں ہوئی میں عرصۂ محشر میں تھا


اک ڈرامائی اثر لاتا تھا وہ اسٹیج پر
گو شمار اس شاعر پر فن کا بازی گر میں تھا