کلدیپ کمار کی غزل

    اک دن تمام فرض ادا کر دئے گئے

    اک دن تمام فرض ادا کر دئے گئے سارے اسیر ذات رہا کر دئے گئے وہ ہی تو غم گسار ہمارے تھے شہر میں سنتے ہیں اب کے وہ بھی خدا کر دئے گئے دو دل کسی بھی طرح نہ جب ہو سکے الگ دو نام ہی ورق پہ جدا کر دئے گئے وہ فرقتوں کے دن تھے وہ وقت عروج تھا کتنے ہی زخم دل کو کما کر دئے گئے شام سیہ بس اپنا ...

    مزید پڑھیے

    سمجھ رہے تھے جسے ہم کہ بے وفا ہوگا

    سمجھ رہے تھے جسے ہم کہ بے وفا ہوگا کسے خبر تھی کہ وہ آدمی خدا ہوگا تمہارے پہلے بھی آنکھوں میں انتظار ہی تھا تمہارے بعد یہی ہوگا اور کیا ہوگا ابھی بھی درد سا اٹھتا ہے مجھ میں ممکن ہے ذرا سا عشق مری ذات میں بچا ہوگا میں اک چراغ ہوا میں جلا کے لوٹ آیا پھر اس کے بعد نہ جانے کہ کیا ...

    مزید پڑھیے

    نظریں ملیں نہ اپنی کبھی گفتگو ہوئی

    نظریں ملیں نہ اپنی کبھی گفتگو ہوئی کہنے کو روز دنیا مرے رو بہ رو ہوئی یوں ہی نہیں بنا ہے تصور میں تیرا عکس برسوں تجھے تراشا ہے تب جا کے تو ہوئی پہلے پہل تو چلتے رہے بے نیاز ہم تھکنے لگے تو منزلوں کی جستجو ہوئی اک دن درخت دل کو میرے چھو گیا کوئی برسوں کے بعد شاخ تمنا نمو ...

    مزید پڑھیے

    راہ عشق میں اتنے تو بیدار تھے ہم

    راہ عشق میں اتنے تو بیدار تھے ہم ہجر آئے گا پہلے ہی تیار تھے ہم شہر بسے تھے میلوں تک اس کی جانب ایک مسلسل جنگل تھا جس پار تھے ہم ہم پہ رنگ و روغن کیا تصویریں کیا گھر کے پچھلے حصے کی دیوار تھے ہم شام سے کوئی بھیڑ اترتی جاتی تھی اک کمرے کے اندر بھی بازار تھے ہم ایک کہانی خود ہی ہم ...

    مزید پڑھیے

    سر خیال ہے یہ کون مگر نہیں ہوں میں

    سر خیال ہے یہ کون مگر نہیں ہوں میں جدھر تلاش رہے ہو ادھر نہیں ہوں میں یہ طور جستجو تھوڑا بدل کے دیکھو نہ میں اور بھی ہوں بہت جسم بھر نہیں ہوں میں یہ کس کی شکل مری ذات پر نمایاں ہے مری طرح تو لگے ہیں مگر نہیں ہوں میں تھکن سفر کو سمیٹے ہوئے ہو پاؤں میں یہ اور بات کے زیر سفر نہیں ہوں ...

    مزید پڑھیے

    دل کو رہ حیات میں الجھا رہا ہوں میں

    دل کو رہ حیات میں الجھا رہا ہوں میں کیسے بھی اپنے آپ کو بہلا رہا ہوں میں رکھ کر کے تھوڑی دور کنارے پہ یہ بدن دریا کے ساتھ ساتھ بہا جا رہا ہوں میں کھڑکی پہ ایک بار تو آ جا کہ دیکھ لوں جانا تمہارے شہر سے اب جا رہا ہوں میں مطلب یہی ہوا کہ مرا بھی وجود ہے اس آئینہ میں صاف نظر آ رہا ...

    مزید پڑھیے

    وقت کی چاک پہ تخلیق نئی چاہتی ہے

    وقت کی چاک پہ تخلیق نئی چاہتی ہے زندگی اور ذرا کوزہ گری چاہتی ہے ایک دہلیز ہے جو پاؤں پکڑ لیتی ہے ایک لڑکی ہے کہ جو اپنی خوشی چاہتی ہے آؤ رو لیں کہ ان آنکھوں سے ذرا دھوپ چھٹے شام کا وقت ہے یہ مٹی نمی چاہتی ہے پیاس کا کھیل دکھانے میں کوئی حرج نہیں مسئلہ یہ ہے کہ اس بار ندی چاہتی ...

    مزید پڑھیے

    خموش لہجے میں مجھ سے دلیل کرتے ہوئے

    خموش لہجے میں مجھ سے دلیل کرتے ہوئے گزر گیا ہے وہ مجھ کو ذلیل کرتے ہوئے اسے کہو کہ ذرا رحم سے وہ پیش آئے لگائے تیغ پہ گردن پہ ڈھیل کرتے ہوئے تمہیں خبر ہی نہیں سامنے ہی تھی منزل چلا ہوں میں ہی یہ رستہ طویل کرتے ہوئے وہ ایک شخص مری پیاس دیکھ کر اکثر برسنے لگتا تھا آنکھوں کو جھیل ...

    مزید پڑھیے

    ایسا نہیں کے وصل کا لمحہ نہ آئے گا

    ایسا نہیں کے وصل کا لمحہ نہ آئے گا لیکن اس انتظار کے جیسا نہ آئے گا یہ لب ہی کیا یہ آنکھیں بھی اب پوچھنے لگیں اس راستے میں کیا کوئی دریا نہ آئے گا بیٹھے رہو اداس یوں زلفوں کو کھول کر اس رت میں تو ہواؤں کا جھونکا نہ آئے گا پہلے سے ہم بتا دیں کہ آئے گا سارا جسم دل تم پہ آئے گا تو ...

    مزید پڑھیے

    سر خیال ہے یہ کون اگر نہیں ہوں میں

    سر خیال ہے یہ کون اگر نہیں ہوں میں جدھر تلاش رہے ہو ادھر نہیں ہوں میں یہ طور جستجو تھوڑا بدل کے دیکھو نہ میں اور کچھ بھی ہوں اک جسم بھر نہیں ہوں میں یہ کس کی شکل میری ذات پر نمایاں ہے مری طرح تو لگے ہے مگر نہیں ہوں میں تھکن سفر کی سمیٹے ہوئے ہوں پاؤں میں یہ اور بات کہ زیر سفر نہیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4