اک دن تمام فرض ادا کر دئے گئے
اک دن تمام فرض ادا کر دئے گئے سارے اسیر ذات رہا کر دئے گئے وہ ہی تو غم گسار ہمارے تھے شہر میں سنتے ہیں اب کے وہ بھی خدا کر دئے گئے دو دل کسی بھی طرح نہ جب ہو سکے الگ دو نام ہی ورق پہ جدا کر دئے گئے وہ فرقتوں کے دن تھے وہ وقت عروج تھا کتنے ہی زخم دل کو کما کر دئے گئے شام سیہ بس اپنا ...