خموش لہجے میں مجھ سے دلیل کرتے ہوئے
خموش لہجے میں مجھ سے دلیل کرتے ہوئے
گزر گیا ہے وہ مجھ کو ذلیل کرتے ہوئے
اسے کہو کہ ذرا رحم سے وہ پیش آئے
لگائے تیغ پہ گردن پہ ڈھیل کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں سامنے ہی تھی منزل
چلا ہوں میں ہی یہ رستہ طویل کرتے ہوئے
وہ ایک شخص مری پیاس دیکھ کر اکثر
برسنے لگتا تھا آنکھوں کو جھیل کرتے ہوئے
لڑے گا ذہن مقدمے میں اس کی جانب سے
سہم رہا ہوں میں دل کو وکیل کرتے ہوئے