ایسا نہیں کے وصل کا لمحہ نہ آئے گا

ایسا نہیں کے وصل کا لمحہ نہ آئے گا
لیکن اس انتظار کے جیسا نہ آئے گا


یہ لب ہی کیا یہ آنکھیں بھی اب پوچھنے لگیں
اس راستے میں کیا کوئی دریا نہ آئے گا


بیٹھے رہو اداس یوں زلفوں کو کھول کر
اس رت میں تو ہواؤں کا جھونکا نہ آئے گا


پہلے سے ہم بتا دیں کہ آئے گا سارا جسم
دل تم پہ آئے گا تو اکیلا نہ آئے گا


آئے نہیں کہ کرنے لگے لوٹنے کی بات
تم ہی بتاؤ ایسے میں غصہ نہ آئے گا


بستی کے سارے بچوں کو کیسے بتاؤں میں
اب وہ کھلونے بیچنے والا نہ آئے گا


سو جاؤ اے درختو کہ ڈھلنے لگی ہے رات
چھوڑو امید اب وہ پرندہ نہ آئے گا