نظریں ملیں نہ اپنی کبھی گفتگو ہوئی

نظریں ملیں نہ اپنی کبھی گفتگو ہوئی
کہنے کو روز دنیا مرے رو بہ رو ہوئی


یوں ہی نہیں بنا ہے تصور میں تیرا عکس
برسوں تجھے تراشا ہے تب جا کے تو ہوئی


پہلے پہل تو چلتے رہے بے نیاز ہم
تھکنے لگے تو منزلوں کی جستجو ہوئی


اک دن درخت دل کو میرے چھو گیا کوئی
برسوں کے بعد شاخ تمنا نمو ہوئی


پہلی دفعہ ہوئے ہیں ان آنکھوں سے ہم کلام
اتنے ادب سے پہلے کہاں گفتگو ہوئی


سوچا تو ہم نے تجھ کو کئی بار تھا مگر
اک عمر بعد ہم کو تری آرزو ہوئی