اک دن تمام فرض ادا کر دئے گئے

اک دن تمام فرض ادا کر دئے گئے
سارے اسیر ذات رہا کر دئے گئے


وہ ہی تو غم گسار ہمارے تھے شہر میں
سنتے ہیں اب کے وہ بھی خدا کر دئے گئے


دو دل کسی بھی طرح نہ جب ہو سکے الگ
دو نام ہی ورق پہ جدا کر دئے گئے


وہ فرقتوں کے دن تھے وہ وقت عروج تھا
کتنے ہی زخم دل کو کما کر دئے گئے


شام سیہ بس اپنا سا منہ لے کے رہ گئی
سارے چراغ نذر ہوا کر دئے گئے


کچھ غم نصیب عشق تھے کچھ غم نصیب زیست
کچھ غم مزاج دل پہ عطا کر دئے گئے


درکار ہو گیا تھا کہانی میں کچھ نیا
ہم لوگ اس لیے بھی جدا کر دئے گئے


اک چہرۂ حسین مٹانے کی ضد تھی اور
آنکھوں کے سارے رنگ فنا کر دئے گئے


کچھ روز بعد ہو گئے جب خوگر قفس
چپکے سے سب پرندے رہا کر دئے گئے