کلدیپ کمار کی غزل

    کوزہ گر میں ترے کس خواب کا چہرہ ہو جاؤں

    کوزہ گر میں ترے کس خواب کا چہرہ ہو جاؤں صرف اک جسم کی مہلت ہے میں کیا کیا ہو جاؤں تجھ میں اور مجھ میں بس اک فرق وفا ہی کا ہے میں اگر ترک وفا کر دوں تو تجھ سا ہو جاؤں مجھ کو میرے ہی اندھیرے نے چھپا رکھا ہے جو تری ذات میں آ جاؤں ستارہ ہو جاؤں سوچتے سب ہیں کہانی تو مکمل ہو جائے چاہتا ...

    مزید پڑھیے

    تمہارے ہونٹوں سے بجھنے کو جلنا پڑتا ہے

    تمہارے ہونٹوں سے بجھنے کو جلنا پڑتا ہے تمہاری آرزو ہو تو مچلنا پڑتا ہے بہ جسم مل نہیں سکتا سو خوشبو بنتا ہے وہ مرے لئے اسے پیکر بدلنا پڑتا ہے ہمیں بجھاتے ہیں لو پہلے سب چراغوں کی پھر ان چراغوں کے حصے کا جلنا پڑتا ہے پھر انتظار بھی تو کرنا ہوتا ہے تیرا مجھے تو وقت سے پہلے نکلنا ...

    مزید پڑھیے

    ہوائے تیز میں اتنا جلا بجھا ہوں میں

    ہوائے تیز میں اتنا جلا بجھا ہوں میں شب سیاہ سے کہہ دو کہ تھک گیا ہوں میں مجھے تمہاری محبت ابھی قبول نہیں کئی اداس سے چہروں کا آسرا ہوں میں تری گلی کے سوا اور دیکھا بھی کیا ہے کہ تیرے شہر میں اب بھی نیا نیا ہوں میں جو مسئلہ تھا اداسی کا میری ذات کا تھا مجھے لگا تھا محبت میں غم زدہ ...

    مزید پڑھیے

    وہ اس طرح سے مری انجمن میں لوٹ آئے

    وہ اس طرح سے مری انجمن میں لوٹ آئے بھٹک کے جیسے پرندہ وطن میں لوٹ آئے گزر گئی تھی کوئی تتلی مجھ کو چھوتے ہوئے تمام رنگ مرے پیرہن میں لوٹ آئے دو چار دن میں ہی تھک گئے تھے دشت روح میں ہم سو ایک دن اسی شہر بدن میں لوٹ آئے ہمارے جسم میں ڈھلنے لگی تھی خاموشی بھلا ہوا کہ پرندے چمن میں ...

    مزید پڑھیے

    کس حال بے خودی میں کنارے گئے تھے ہم

    کس حال بے خودی میں کنارے گئے تھے ہم جب زندگی کی سمت اتارے گئے تھے ہم ہم پر ٹھہر گئی تھی سر بزم اک نگاہ کس سادگی سے ہائے پکارے گئے تھے ہم ان نیم باز نرگسی آنکھوں سے پوچھئے اس رات کس طرح سے گزارے گئے تھے ہم دھوکے سے ہم سے پار کرائی گئی تھی رات اک صبح کی بساط پہ مارے گئے تھے ہم اس ...

    مزید پڑھیے

    روشنی کے ساز و ساماں ڈھونڈھتا پھرتا تھا میں

    روشنی کے ساز و ساماں ڈھونڈھتا پھرتا تھا میں ان دنوں اک چاند کی تعمیر میں الجھا تھا میں آخری منظر ہی شب کا ہاتھ لگ پایا مرے کل تری محفل میں تھوڑا دیر سے پہنچا تھا میں اس پرانے گھر کی وہ دیوار اب کے گر گئی ہاں وہی دیوار جس پر اب تلک لکھا تھا میں اس کی باہوں سے نکل آیا بھی تھا میرا ...

    مزید پڑھیے

    نہ صرف تجھ سے مجھے انتقام لینا ہے

    نہ صرف تجھ سے مجھے انتقام لینا ہے حساب وحشت عمر تمام لینا ہے مرے لبوں پہ یہ رکھ دی گئی ہے کس کی دعا یہ ساری عمر مجھے کس کا نام لینا ہے سنا ہے اس کی نگاہیں ادب نواز ہیں سو کسی بھی طرح مجھے اک سلام لینا ہے میں اک فقیر محبت ہوں مجھ کو کیا معلوم کہ کس سخن پہ مجھے کتنا دام لینا ہے بس ...

    مزید پڑھیے

    بس ایک خالی سا پیکر دکھائی دیتا ہے

    بس ایک خالی سا پیکر دکھائی دیتا ہے یہ کون خواب میں اکثر دکھائی دیتا ہے بس اس کے ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا کبھی کبھی وہ برابر دکھائی دیتا ہے میں جس سے ملتا ہوں اک بار دیکھنے کے لیے بچھڑتا ہیں تو مکرر دکھائی دیتا ہے چلو کہ اس پہ بھی چڑھنے لگا ہے ہجر کا رنگ وہ اب کے پہلے سے بہتر ...

    مزید پڑھیے

    اک اضطراب سا سینے میں ہر گھڑی ہے مجھے

    اک اضطراب سا سینے میں ہر گھڑی ہے مجھے ٹھہر اے زندگی اک بات پوچھنی ہے مجھے ادھر سے جب بھی گزرنا ہو تو پکارا کر اندھیرے میں تری آواز روشنی ہے مجھے عجیب طرح کی تنہائی ہے مرے گھر میں ہر ایک چیز اداسی سے دیکھتی ہے مجھے میں اب تو کشتیٔ جاں میں سوار ہو چکا ہوں سو دیکھیے کہاں لے جا کے ...

    مزید پڑھیے

    آپ ہی فن کا پرستار سمجھتے ہیں مجھے

    آپ ہی فن کا پرستار سمجھتے ہیں مجھے ورنہ یہ لوگ تو فن کار سمجھتے ہیں مجھے الجھنیں لے کے چلے آتے ہیں بستی کے مکیں کتنے ناداں ہیں سمجھ دار سمجھتے ہیں مجھے سر پٹکتے ہیں مرے سینے پہ سب روتے ہوئے رونے والے کوئی دیوار سمجھتے ہیں مجھے میرے چپ رہنے پہ پتھر مجھے کہنے والے میرے رونے پہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 4