سر خیال ہے یہ کون مگر نہیں ہوں میں

سر خیال ہے یہ کون مگر نہیں ہوں میں
جدھر تلاش رہے ہو ادھر نہیں ہوں میں


یہ طور جستجو تھوڑا بدل کے دیکھو نہ
میں اور بھی ہوں بہت جسم بھر نہیں ہوں میں


یہ کس کی شکل مری ذات پر نمایاں ہے
مری طرح تو لگے ہیں مگر نہیں ہوں میں


تھکن سفر کو سمیٹے ہوئے ہو پاؤں میں
یہ اور بات کے زیر سفر نہیں ہوں میں


میں سوچتا ہوں کہ اب عشق ہی کروں تجھ سے
بہت دنوں سے کسی کام پر نہیں ہوں میں


شب جوانی ہوں ایسا نہ ہو گزر جاؤں
سو مجھ کو جی لو کی پھر عمر بھر نہیں ہوں میں