کلدیپ کمار کی غزل

    رونے لگے ہیں لوگ رلاتے ہوئے مجھے

    رونے لگے ہیں لوگ رلاتے ہوئے مجھے میری ہی داستان سناتے ہوئے مجھے میرے سفر کو اور بھی مشکل زدہ نہ کر یوں دور تک نہ دیکھ تو جاتے ہوئے مجھے یارو انا کی جنگ میں اکثر یہی ہوا وہ ہارتا گیا ہے ہراتے ہوئے مجھے یہ کون میری ذات پر احسان کر گیا یہ کون مر گیا ہے بچاتے ہوئے مجھے اک درد آ کے ...

    مزید پڑھیے

    نرم پھولوں سے کبھی خار سے لگ جاتے ہیں

    نرم پھولوں سے کبھی خار سے لگ جاتے ہیں ہم وہ جگنو ہیں جو دیوار سے لگ جاتے ہیں دو یتیموں کی محبت ہے یہ جو اڑتے ہوئے خشک پتے مرے رخسار سے لگ جاتے ہیں اتنی ہمدردی سے مت دیکھ مری آنکھوں میں کچھ مرض دیدۂ بیمار سے لگ جاتے ہیں جب تصور کے خرابے میں تو آ جاتا ہے اندر اندر کئی بازار سے لگ ...

    مزید پڑھیے

    منہ پھیرتا نہیں ہے کسی کام سے بدن

    منہ پھیرتا نہیں ہے کسی کام سے بدن بکھرا پڑا ہے آج مگر شام سے بدن بھولا نہیں ہے اب بھی ترا لمس آخری لو پھر سحر اٹھا ہے ترے نام سے بدن مدت میں جس طرح کوئی بچھڑا ہوا ملے ایسے لپٹ گیا ہے در و بام سے بدن چھلکے تو بوند بوند مرے جسم پر گرے چپکا لیا ہے میں نے ترے جام سے بدن تھوڑا تو چلنے ...

    مزید پڑھیے

    تسکین و رحم سے نہ تو لفظ دعا سے تھی

    تسکین و رحم سے نہ تو لفظ دعا سے تھی جو ہم گناہ گاروں کو کار سزا سے تھی اس سے بچھڑ رہا ہوں تو کیوں رو رہا ہوں میں اس بات کی خبر تو مجھے ابتدا سے تھی اب کے بچا سکی نہ مری خامشی مجھے اس بار میری جنگ کسی ہم نوا سے تھی دشمن ہی ایک اہل وفا چاہتے تھے ہم حالانکہ دوستی تو ہر اک بے وفا سے ...

    مزید پڑھیے

    کیا اسی طور ہی یہ سارا سفر جانا ہے

    کیا اسی طور ہی یہ سارا سفر جانا ہے کیا کہیں رکنا نہیں یوں ہی گزر جانا ہے میں ترے روح کا عاشق ہوں مگر جانتا ہوں تیرا یہ شوخ بدن بھی مرے سر جانا ہے دشت کی خاک ہوں میں میرا کہاں خود کا سفر طے کرے گی یہ ہوا مجھ کو کدھر جانا ہے شرط یہ تھی کہ نہ بچھڑیں گے کبھی جیتے جی یہ نہیں تھی کہ بچھڑ ...

    مزید پڑھیے

    ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے

    ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے عجیب خوف میں ہم اس کے در سے لوٹ آئے نہ ایسے روئیے ناکامیٔ محبت پر خوشی منائیے زندہ بھنور سے لوٹ آئے یہ سوچتے ہوئے بیٹھے ہیں راہ میں رک کر ادھر تو گئے ہی نہیں تھے جدھر سے لوٹ آئے لب اس کے سامنے تھے اور ہم نے چوما نہیں سمجھ لو پاؤں اٹھے اور در سے ...

    مزید پڑھیے

    خدا کہہ کہہ کے جس پر جان وارے جا رہے ہیں

    خدا کہہ کہہ کے جس پر جان وارے جا رہے ہیں نہ جانے کون ہے کس کو پکارے جا رہے ہیں یہ کیا کم ہے کہ زندہ ہے تمہارے بعد بھی ہم کہ اس پہ ہجر کے یہ دن گزارے جا رہے ہیں کسی جانب سے تم بھی دو ہمیں آواز جاناں ہمیں تم کو اندھیرے میں پکارے جا رہے ہیں بہ جز اک جنگ کے پھر جیتنے کو کیا رہے گا جنون ...

    مزید پڑھیے

    ہم نے خود چھیڑا ہے زخموں کو ہرا رکھنا تھا

    ہم نے خود چھیڑا ہے زخموں کو ہرا رکھنا تھا خود کو اک شخص سے تا عمر خفا رکھنا تھا تنگ دامانی میں دم گھٹتا ہے دیوانوں کا عشق ہم سے تھا تو پھر دل بھی بڑا رکھنا تھا ہنستے گاتے ہوئے دن گزرا ہے ہم لوگوں کا رات کو اور ذرا کرب زدہ رکھنا تھا کم سے کم روشنی کا دعویٰ نہیں کرتے تم جب چراغوں ...

    مزید پڑھیے

    موسم یاد یوں عجلت میں نہ وارے جائیں

    موسم یاد یوں عجلت میں نہ وارے جائیں ہم وہ لمحے ہیں جو فرصت سے گزارے جائیں ہو کے رسوا وہ ہوا جس کی کبھی حسرت تھی ہم ترے نام سے محفل میں پکارے جائیں آپ کا حسن ہے جتنا بھی نمائش کیجے ہاں بس اتنا ہے کہ معصوم نہ مارے جائیں یاں سے اب راہ عدم سوئے فلک جاتی ہے آئیے پاؤں ہواؤں میں اتارے ...

    مزید پڑھیے

    پلک سے آ لگے کئی جگنو جگمگاتے ہوئے

    پلک سے آ لگے کئی جگنو جگمگاتے ہوئے کسی نے دیکھا ہمیں ایسے مسکراتے ہوئے میں چاہتا ہوں کہ وہ بھی خوشی میں شامل ہو سو رونے لگتا ہوں اکثر خوشی مناتے ہوئے عجیب خوف اندھیرے کا مجھ کو تھا اس رات پسینے آ گئے مجھ کو دیا بجھاتے ہوئے ہمیں بھی جیسے اچانک ہی گھر کی یاد آئی پرندے شام کو جب ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 4