وقت کی چاک پہ تخلیق نئی چاہتی ہے

وقت کی چاک پہ تخلیق نئی چاہتی ہے
زندگی اور ذرا کوزہ گری چاہتی ہے


ایک دہلیز ہے جو پاؤں پکڑ لیتی ہے
ایک لڑکی ہے کہ جو اپنی خوشی چاہتی ہے


آؤ رو لیں کہ ان آنکھوں سے ذرا دھوپ چھٹے
شام کا وقت ہے یہ مٹی نمی چاہتی ہے


پیاس کا کھیل دکھانے میں کوئی حرج نہیں
مسئلہ یہ ہے کہ اس بار ندی چاہتی ہے


عشق پروان پہ ہے آؤ بچھڑ جائیں ہم
یہ تقاضا بھی ہے دنیا بھی یہی چاہتی ہے


اک نظر فاقے پہ بیٹھی ہے کئی ہفتوں سے
جانے کس یار ستم گر کی گلی چاہتی ہے