آپ ہی فن کا پرستار سمجھتے ہیں مجھے
آپ ہی فن کا پرستار سمجھتے ہیں مجھے
ورنہ یہ لوگ تو فن کار سمجھتے ہیں مجھے
الجھنیں لے کے چلے آتے ہیں بستی کے مکیں
کتنے ناداں ہیں سمجھ دار سمجھتے ہیں مجھے
سر پٹکتے ہیں مرے سینے پہ سب روتے ہوئے
رونے والے کوئی دیوار سمجھتے ہیں مجھے
میرے چپ رہنے پہ پتھر مجھے کہنے والے
میرے رونے پہ اداکار سمجھتے ہیں مجھے
دھوپ نکلے گی تو ان سب کے بھرم ٹوٹیں گے
یہ جو سب سایۂ دیوار سمجھتے ہیں مجھے
ہاں میں بیمار ہوں پر غم مجھے اس بات کا ہے
گھر کے سب لوگ بھی بیمار سمجھتے ہیں مجھے
مجھ کو اس سیم زدہ شہر میں رہنا ہے جہاں
سب محبت کا گنہ گار سمجھتے ہیں مجھے