نہ صرف تجھ سے مجھے انتقام لینا ہے

نہ صرف تجھ سے مجھے انتقام لینا ہے
حساب وحشت عمر تمام لینا ہے


مرے لبوں پہ یہ رکھ دی گئی ہے کس کی دعا
یہ ساری عمر مجھے کس کا نام لینا ہے


سنا ہے اس کی نگاہیں ادب نواز ہیں سو
کسی بھی طرح مجھے اک سلام لینا ہے


میں اک فقیر محبت ہوں مجھ کو کیا معلوم
کہ کس سخن پہ مجھے کتنا دام لینا ہے


بس ایک تو ہی نہیں ہے مرے نشانے پر
زمانے بھر سے مجھے انتقام لینا ہے


ابھی تو باقی ہیں دنیا کے رنج بھی آگے
ابھی تو دل سے مجھے اور کام لینا ہے