وہ اس طرح سے مری انجمن میں لوٹ آئے

وہ اس طرح سے مری انجمن میں لوٹ آئے
بھٹک کے جیسے پرندہ وطن میں لوٹ آئے


گزر گئی تھی کوئی تتلی مجھ کو چھوتے ہوئے
تمام رنگ مرے پیرہن میں لوٹ آئے


دو چار دن میں ہی تھک گئے تھے دشت روح میں ہم
سو ایک دن اسی شہر بدن میں لوٹ آئے


ہمارے جسم میں ڈھلنے لگی تھی خاموشی
بھلا ہوا کہ پرندے چمن میں لوٹ آئے


جب آیا یار تو تھوڑا سا اٹھ کے بیٹھ گئے
یوں مل کے یار سے بزم سخن میں لوٹ آئے


بس ایک درد نے کیا پیٹھ تھپتھپائی کہ پھر
تمام حسن و جمال اہل فن میں لوٹ آئے


سنا ہے پھر سے محبت میں لوگ مرنے لگے
یہ کس زمانے کے سکے چلن میں لوٹ آئے


ہوئی جو شام تو پھر رات کاٹنے کے لیے
تمام لوگ مرے تن بدن میں لوٹ آئے