کس حال بے خودی میں کنارے گئے تھے ہم
کس حال بے خودی میں کنارے گئے تھے ہم
جب زندگی کی سمت اتارے گئے تھے ہم
ہم پر ٹھہر گئی تھی سر بزم اک نگاہ
کس سادگی سے ہائے پکارے گئے تھے ہم
ان نیم باز نرگسی آنکھوں سے پوچھئے
اس رات کس طرح سے گزارے گئے تھے ہم
دھوکے سے ہم سے پار کرائی گئی تھی رات
اک صبح کی بساط پہ مارے گئے تھے ہم
اس بار موت لانگھ کے جائیں گے شہر عشق
اس بار زندگی کے سہارے گئے تھے ہم