تمہارے ہونٹوں سے بجھنے کو جلنا پڑتا ہے

تمہارے ہونٹوں سے بجھنے کو جلنا پڑتا ہے
تمہاری آرزو ہو تو مچلنا پڑتا ہے


بہ جسم مل نہیں سکتا سو خوشبو بنتا ہے وہ
مرے لئے اسے پیکر بدلنا پڑتا ہے


ہمیں بجھاتے ہیں لو پہلے سب چراغوں کی
پھر ان چراغوں کے حصے کا جلنا پڑتا ہے


پھر انتظار بھی تو کرنا ہوتا ہے تیرا
مجھے تو وقت سے پہلے نکلنا پڑتا ہے


بڑی ہے سخت مری جاں تیری اداسی بھی
بشکل و صورت دیوار ڈھلنا پڑتا ہے


میں ہار جاتا ہوں ان دو اداس آنکھوں سے
مجھے سفر کا ارادہ بدلنا پڑتا ہے