بس ایک خالی سا پیکر دکھائی دیتا ہے
بس ایک خالی سا پیکر دکھائی دیتا ہے
یہ کون خواب میں اکثر دکھائی دیتا ہے
بس اس کے ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا
کبھی کبھی وہ برابر دکھائی دیتا ہے
میں جس سے ملتا ہوں اک بار دیکھنے کے لیے
بچھڑتا ہیں تو مکرر دکھائی دیتا ہے
چلو کہ اس پہ بھی چڑھنے لگا ہے ہجر کا رنگ
وہ اب کے پہلے سے بہتر دکھائی دیتا ہے
بچھڑ کے جاتا کہاں ہے وہ آنکھ کھلتے ہی
جو مجھ کو خواب میں شب بھر دکھائی دیتا ہے
یہ لوگ کیسے بھی اس دشت کے نہیں لگتے
سبھی کی آنکھوں میں اک گھر دکھائی دیتا ہے