ہوائے تیز میں اتنا جلا بجھا ہوں میں

ہوائے تیز میں اتنا جلا بجھا ہوں میں
شب سیاہ سے کہہ دو کہ تھک گیا ہوں میں


مجھے تمہاری محبت ابھی قبول نہیں
کئی اداس سے چہروں کا آسرا ہوں میں


تری گلی کے سوا اور دیکھا بھی کیا ہے
کہ تیرے شہر میں اب بھی نیا نیا ہوں میں


جو مسئلہ تھا اداسی کا میری ذات کا تھا
مجھے لگا تھا محبت میں غم زدہ ہوں میں


کسی نے مجھ کو بتایا ابھی ابھی آ کر
تمہارے در پہ بڑی دیر سے کھڑا ہوں میں


عجیب ہے کہ تمہیں پھر بھی عشق ہے مجھ سے
سنا تو تم نے بھی ہوگا کہ بے وفا ہوں میں


مجھے یہ زندگی اب جانے بھی نہیں دے گی
اسے یہ کس نے بتایا کہ مر رہا ہوں میں