Krishn Gopal Maghmum

کرشن گوپال مغموم

کرشن گوپال مغموم کی غزل

    بھٹک نہ جائے خدایا نظر کتابوں میں

    بھٹک نہ جائے خدایا نظر کتابوں میں گزرتے ہیں مرے شام و سحر کتابوں میں جہان بھر میں ہیں جاذب ہزارہا چیزیں مگر نظر نے بنایا ہے گھر کتابوں میں ہزار حیف ہمیں بہرہ یاب ہو نہ سکے کہاں کہاں کا تھا علم و ہنر کتابوں میں وہ علم ذات کہ جس کی ہمیں خبر نہ ہوئی وہ علم ذات بھی تھا جلوہ گر ...

    مزید پڑھیے

    ظاہراً شاد ہوں فرحاں ہوں ہمیشہ کی طرح

    ظاہراً شاد ہوں فرحاں ہوں ہمیشہ کی طرح باطناً زار و پریشاں ہوں ہمیشہ کی طرح دل مرا برگ خزاں دیدہ کی مانند سہی میں پرستار بہاراں ہوں ہمیشہ کی طرح میری آنکھوں میں کسی نے نہیں دیکھے آنسو پھر بھی یہ سچ ہے کہ گریاں ہوں ہمیشہ کی طرح روش دہر سے رنجیدہ ہوں بیزار نہیں روش دہر پہ خنداں ...

    مزید پڑھیے

    حوصلہ دید کا اور تاب نظر دیکھیں گے

    حوصلہ دید کا اور تاب نظر دیکھیں گے حسن ہی حسن کے ہم شمس و قمر دیکھیں گے دیکھنا پڑ گئی مایوس اندھیروں کی سحر سوچتے تھے کہ امیدوں کی سحر دیکھیں گے کیا عجب گیت بھی بلبل کا سنائی دے جائے صحن گلزار میں اک اک گل تر دیکھیں گے رو بہ رو ان کے کوئی بات نہ ہم سے ہوگی اپنی خاموش نگاہوں کا ...

    مزید پڑھیے

    مرے ساقی اک ایسا دور ساغر

    مرے ساقی اک ایسا دور ساغر پیوں جی بھر کے اشک دیدۂ تر جمال دوست یوں ہو جلوہ فرما گریں میری نظر سے ماہ و اختر ہوائیں لے اڑیں زلفوں کی خوشبو یہ دنیا ہو فضائے عود و عنبر ترے قرب شمیم آرا کے صدقے مری ہر سانس ہو جائے معطر دھڑکتا ہے مرا دل بے تحاشہ لرزتی ہے اگر شاخ گل تر چمکتا جا ...

    مزید پڑھیے

    زندگانی کو فن کے نام کیا

    زندگانی کو فن کے نام کیا کام کرنا تھا میں نے کام کیا علم ہی کی شراب پی جھک کر خود کو ہرگز نہ وقف جام کیا غم ہوا میری زندگی کا مدار اس قدر غم کا احترام کیا جیسے معشوق سے ہو روئے سخن زندگی تجھ سے یوں کلام کیا خاک چھانی جو فن کے صحرا کی ہم نے ذوق جنوں کو عام کیا کاملان سخن کو پڑھ ...

    مزید پڑھیے

    مسکرانے کو مسکراتا ہوں

    مسکرانے کو مسکراتا ہوں پھر بھی غم کو کہاں چھپاتا ہوں حسن سے رنگ مانگ لاتا ہوں اور ہر نقش فن سجاتا ہوں یاد آتا ہے تو مجھے ہر دم کیا تجھے بھی میں یاد آتا ہوں شاعری کے حسین پردے میں زندگی تیرے گیت گاتا ہوں حسن کو چوم کر نگاہوں سے حسن کی آبرو بڑھاتا ہوں آج بھی اس کی یاد آتے ...

    مزید پڑھیے

    وفا کی راہ میں جو نقد جاں لٹا آئے

    وفا کی راہ میں جو نقد جاں لٹا آئے لب زمانہ نے وہ چند نام دہرائے جب اک بھی لمحہ خوشی کا نہ اپنے پاس آئے خدا بچائے ہم اس زندگی سے بھر پائے طلوع صبح محبت کا انتظار رہا مگر وطن میں تو کچھ اور بڑھ گئے سائے فتور نیت ساقی سے نبھ نہ سکتی تھی ہم اپنے جام کو میخانے ہی میں توڑ آئے خراب حال ...

    مزید پڑھیے

    یوں تو ہنگامے بہت دل میں بپا رہتے ہیں

    یوں تو ہنگامے بہت دل میں بپا رہتے ہیں ہم بڑے خوش ہیں کہ راضی بہ رضا رہتے ہیں سجتی رہتی ہیں ہمارے ہی لئے دار و صلیب کوئی بھی دور ہو ہم سرخ قبا رہتے ہیں زخم ہیں سینے میں لیکن ہے تبسم لب پر ہم بہ تقلید رہ و رسم وفا رہتے ہیں اپنی نظروں میں تو نعمت سی ہے نعمت یارو ہوں گے وہ اور جو ہستی ...

    مزید پڑھیے

    کوئی جلوہ فشاں ہے اور میں ہوں

    کوئی جلوہ فشاں ہے اور میں ہوں تصور کا جہاں ہے اور میں ہوں کٹھن ہے راہ منزل گم شب تار مگر عزم گراں ہے اور میں ہوں خزاں کی انجمن میں ہوں فروکش فریب گلستاں ہے اور میں ہوں یہ میرا دل ہے یا تصویر خانہ جمال گل رخاں ہے اور میں ہوں ہمارا کارواں بھٹکا ہوا ہے خیال کارواں ہے اور میں ...

    مزید پڑھیے