بھٹک نہ جائے خدایا نظر کتابوں میں

بھٹک نہ جائے خدایا نظر کتابوں میں
گزرتے ہیں مرے شام و سحر کتابوں میں


جہان بھر میں ہیں جاذب ہزارہا چیزیں
مگر نظر نے بنایا ہے گھر کتابوں میں


ہزار حیف ہمیں بہرہ یاب ہو نہ سکے
کہاں کہاں کا تھا علم و ہنر کتابوں میں


وہ علم ذات کہ جس کی ہمیں خبر نہ ہوئی
وہ علم ذات بھی تھا جلوہ گر کتابوں میں


ہمارے قول و عمل پر ہوا نہ کوئی اثر
الجھ کے رہ گئی اپنی نظر کتابوں میں


جہاں بھی سنگ حوادث کی ہو گئی بارش
چھپا لیا ہے وہیں اپنا سر کتابوں میں


مطالعہ کی نمائش ہی جن کا مقصد تھا
ملا نہ کچھ بھی انہیں عمر بھر کتابوں میں


تلاش جن کی ہر اک علم داں کو رہتی ہے
وہ در علم بھی ہیں معتبر کتابوں میں


یہیں ہوئیں مری ہستی کی ابتدائے سفر
ہو خوب تر جو ہو ختم سفر کتابوں میں


زمانے بھر کی خبر مل گئی کتابوں سے
ملی نہ اپنی ذرا بھی خبر کتابوں میں


ہوئی ہے جس سے مری فکر گوہریں مغمومؔ
مجھے ملی ہے وہ تاب گہر کتابوں میں