یوں تو ہنگامے بہت دل میں بپا رہتے ہیں

یوں تو ہنگامے بہت دل میں بپا رہتے ہیں
ہم بڑے خوش ہیں کہ راضی بہ رضا رہتے ہیں


سجتی رہتی ہیں ہمارے ہی لئے دار و صلیب
کوئی بھی دور ہو ہم سرخ قبا رہتے ہیں


زخم ہیں سینے میں لیکن ہے تبسم لب پر
ہم بہ تقلید رہ و رسم وفا رہتے ہیں


اپنی نظروں میں تو نعمت سی ہے نعمت یارو
ہوں گے وہ اور جو ہستی سے خفا رہتے ہیں


ہند کی خاک کا ہر ذرہ ہے تقدیس مآب
ذرے ذرے کے تلے اہل صفا رہتے ہیں


عشق کے بندوں سے کیا تجھ کو غرض اے دنیا
ہم کہ ہیں سب سے الگ سب سے جدا رہتے ہیں


روز لے آتی ہے ان زلفوں کی خوشبو ہم تک
ہم ترے فیض پہ اے باد صبا رہتے ہیں


اپنی پہچان ہزاروں میں بھی ہو جائے گی
ایک ہی وضع پہ ہم صبح و مسا رہتے ہیں


نغمگی دے کے ہر اک نالۂ غم کو مغمومؔ
ہم ہیں مجبور نوا نغمہ سرا رہتے ہیں