حوصلہ دید کا اور تاب نظر دیکھیں گے

حوصلہ دید کا اور تاب نظر دیکھیں گے
حسن ہی حسن کے ہم شمس و قمر دیکھیں گے


دیکھنا پڑ گئی مایوس اندھیروں کی سحر
سوچتے تھے کہ امیدوں کی سحر دیکھیں گے


کیا عجب گیت بھی بلبل کا سنائی دے جائے
صحن گلزار میں اک اک گل تر دیکھیں گے


رو بہ رو ان کے کوئی بات نہ ہم سے ہوگی
اپنی خاموش نگاہوں کا اثر دیکھیں گے


تو اب آئے کہ نہ آئے یہ تجھی پر چھوڑا
عمر بھر ہم تو تری راہ گزر دیکھیں گے


ہم نے محنت سے لگائے تھے سخن کے پودے
سوچتے تھے کہ کبھی ان کا ثمر دیکھیں گے


ابتدا ہی سے ہے کیش اپنا فقط ترک رسوم
چھوڑ کر دیر و حرم آپ کا در دیکھیں گے


اپنے آئینہ غم میں غم آفاق لئے
غم ہستی کو بہ انداز دگر دیکھیں گے


زندگی لائی نظر میں جو حوادث مغمومؔ
دیکھنا ہم نہیں چاہیں گے مگر دیکھیں گے