مرے ساقی اک ایسا دور ساغر
مرے ساقی اک ایسا دور ساغر
پیوں جی بھر کے اشک دیدۂ تر
جمال دوست یوں ہو جلوہ فرما
گریں میری نظر سے ماہ و اختر
ہوائیں لے اڑیں زلفوں کی خوشبو
یہ دنیا ہو فضائے عود و عنبر
ترے قرب شمیم آرا کے صدقے
مری ہر سانس ہو جائے معطر
دھڑکتا ہے مرا دل بے تحاشہ
لرزتی ہے اگر شاخ گل تر
چمکتا جا چمکتا جا مسلسل
تمناؤں کے اے ماہ منور
یہاں ہیں پھول کم کانٹے زیادہ
تو پھر ہو جائیے کانٹوں کے خوگر
اسی امید پر کٹ جائے یا رب
کبھی ہوگا سکون دل میسر
مجھے شعروں میں کہہ دینا ہے مغمومؔ
گزرتی ہے جو لمحہ لمحہ دل پر