وفا کی راہ میں جو نقد جاں لٹا آئے
وفا کی راہ میں جو نقد جاں لٹا آئے
لب زمانہ نے وہ چند نام دہرائے
جب اک بھی لمحہ خوشی کا نہ اپنے پاس آئے
خدا بچائے ہم اس زندگی سے بھر پائے
طلوع صبح محبت کا انتظار رہا
مگر وطن میں تو کچھ اور بڑھ گئے سائے
فتور نیت ساقی سے نبھ نہ سکتی تھی
ہم اپنے جام کو میخانے ہی میں توڑ آئے
خراب حال تھے پھر بھی بچائی خود داری
نہ ہاتھ جوڑے کہیں اور نہ ہاتھ پھیلائے
ہزار حیف کہ دل کے کہے کو ٹال دیا
اس ایک بھول پہ ہم لاکھ بار پچھتائے
عجیب بات ہے اپنوں نے کی نہ کچھ بھی مدد
جو غیر تھے وہی بڑھ چڑھ کے میرے کام آئے
خدائے پاک نے کر لی قبول میری دعا
جب اشک بہتے گئے اور ہونٹ تھرائے
ہر ایک شخص کو دعویٰ ہے ہوشمندی کا
یہ حال ہو تو بھلا کون کس کو سمجھائے
جہاں سے اٹھ گئے جوشؔ و جگرؔ سے انورؔ سے
کوئی جو لائے تو عرض ہنر کو کیا لائے
جدید دور زوال غزل میں بھی مغمومؔ
ہمیں نے حسن تغزل کے پھول برسائے