Krishn Gopal Maghmum

کرشن گوپال مغموم

کرشن گوپال مغموم کے تمام مواد

9 غزل (Ghazal)

    بھٹک نہ جائے خدایا نظر کتابوں میں

    بھٹک نہ جائے خدایا نظر کتابوں میں گزرتے ہیں مرے شام و سحر کتابوں میں جہان بھر میں ہیں جاذب ہزارہا چیزیں مگر نظر نے بنایا ہے گھر کتابوں میں ہزار حیف ہمیں بہرہ یاب ہو نہ سکے کہاں کہاں کا تھا علم و ہنر کتابوں میں وہ علم ذات کہ جس کی ہمیں خبر نہ ہوئی وہ علم ذات بھی تھا جلوہ گر ...

    مزید پڑھیے

    ظاہراً شاد ہوں فرحاں ہوں ہمیشہ کی طرح

    ظاہراً شاد ہوں فرحاں ہوں ہمیشہ کی طرح باطناً زار و پریشاں ہوں ہمیشہ کی طرح دل مرا برگ خزاں دیدہ کی مانند سہی میں پرستار بہاراں ہوں ہمیشہ کی طرح میری آنکھوں میں کسی نے نہیں دیکھے آنسو پھر بھی یہ سچ ہے کہ گریاں ہوں ہمیشہ کی طرح روش دہر سے رنجیدہ ہوں بیزار نہیں روش دہر پہ خنداں ...

    مزید پڑھیے

    حوصلہ دید کا اور تاب نظر دیکھیں گے

    حوصلہ دید کا اور تاب نظر دیکھیں گے حسن ہی حسن کے ہم شمس و قمر دیکھیں گے دیکھنا پڑ گئی مایوس اندھیروں کی سحر سوچتے تھے کہ امیدوں کی سحر دیکھیں گے کیا عجب گیت بھی بلبل کا سنائی دے جائے صحن گلزار میں اک اک گل تر دیکھیں گے رو بہ رو ان کے کوئی بات نہ ہم سے ہوگی اپنی خاموش نگاہوں کا ...

    مزید پڑھیے

    مرے ساقی اک ایسا دور ساغر

    مرے ساقی اک ایسا دور ساغر پیوں جی بھر کے اشک دیدۂ تر جمال دوست یوں ہو جلوہ فرما گریں میری نظر سے ماہ و اختر ہوائیں لے اڑیں زلفوں کی خوشبو یہ دنیا ہو فضائے عود و عنبر ترے قرب شمیم آرا کے صدقے مری ہر سانس ہو جائے معطر دھڑکتا ہے مرا دل بے تحاشہ لرزتی ہے اگر شاخ گل تر چمکتا جا ...

    مزید پڑھیے

    زندگانی کو فن کے نام کیا

    زندگانی کو فن کے نام کیا کام کرنا تھا میں نے کام کیا علم ہی کی شراب پی جھک کر خود کو ہرگز نہ وقف جام کیا غم ہوا میری زندگی کا مدار اس قدر غم کا احترام کیا جیسے معشوق سے ہو روئے سخن زندگی تجھ سے یوں کلام کیا خاک چھانی جو فن کے صحرا کی ہم نے ذوق جنوں کو عام کیا کاملان سخن کو پڑھ ...

    مزید پڑھیے

تمام