کوئی جلوہ فشاں ہے اور میں ہوں
کوئی جلوہ فشاں ہے اور میں ہوں
تصور کا جہاں ہے اور میں ہوں
کٹھن ہے راہ منزل گم شب تار
مگر عزم گراں ہے اور میں ہوں
خزاں کی انجمن میں ہوں فروکش
فریب گلستاں ہے اور میں ہوں
یہ میرا دل ہے یا تصویر خانہ
جمال گل رخاں ہے اور میں ہوں
ہمارا کارواں بھٹکا ہوا ہے
خیال کارواں ہے اور میں ہوں
نظر میں ماورائے فرش و عرش اب
فضائے دو جہاں ہے اور میں ہوں
مرا کوئی شریک غم نہیں ہے
مرا درد نہاں ہے اور میں ہوں
تعصب ہے کہیں فرقہ پرستی
عجب نازک سماں ہے اور میں ہوں
شب تاریک کے دامن میں مغمومؔ
سکوت بے کراں ہے اور میں ہوں