Kishwar Naheed

کشور ناہید

پاکستانی شاعرہ ، اپنے تانیثی خیالات اور مذہبی کٹرپن کی مخالفت کے لئے مشہور

Renowned woman poet from Pakistan known for her bold views on women and her strong stand against religious fundamentalism.

کشور ناہید کی غزل

    سنبھل ہی لیں گے مسلسل تباہ ہوں تو سہی

    سنبھل ہی لیں گے مسلسل تباہ ہوں تو سہی عذاب زیست میں رشک گناہ ہوں تو سہی کہیں تو ساحل نایافت کا نشاں ہوگا جلا کے خود کو تقاضائے آہ ہوں تو سہی مجال کیا کہ نہ منزل بنے نشان وفا سفیر خود نگراں گرد راہ ہوں تو سہی صدا بہ دشت بنے گی نہ یہ لہو کی تپش لہو کے چھینٹے مگر گاہ گاہ ہوں تو سہی

    مزید پڑھیے

    دل نے چاہا تھا کہ ہو آبلہ پائی رخصت

    دل نے چاہا تھا کہ ہو آبلہ پائی رخصت زندگی دے کے ہوئی شعلہ فشانی رخصت تم نے جب شمع بجھائی تو سمجھ میں آیا ایک موہوم سا رشتہ تھا سو وہ بھی رخصت میں اداسی سر بازار بھی لاؤں ایسے جیسے پانی کی تمنا میں ہو کشتی رخصت میرے اصرار پہ موجود تھا گھر پہ لیکن اس نے خاموش لباسی میں لکھی تھی ...

    مزید پڑھیے

    یہ دشت فراموشی ٹھہرنے نہیں دیتا

    یہ دشت فراموشی ٹھہرنے نہیں دیتا لیکن در خواہش کو بھی کھلنے نہیں دیتا یہ رسم ہے دیوار و در گریہ کی لیکن دریوزہ گر خواب تو رونے نہیں دیتا آشوب ہے ایسا کہ سراسیمہ ہے وحشت یہ عجز بیاں زخم بھی دھونے نہیں دیتا ہاں منزل امید بھی نزدیک تھی لیکن غم خانۂ جاناناں بہلنے نہیں ...

    مزید پڑھیے

    سرخی بدن میں رنگ وفا کی تھی کچھ دنوں

    سرخی بدن میں رنگ وفا کی تھی کچھ دنوں تاثیر یہ بھی اس کی دعا کی تھی کچھ دنوں ڈھونڈے سے اس کے نقش الجھتے تھے اور بھی حالت تمام کرب و بلا کی تھی کچھ دنوں کاغذ پہ تھا لکھا ہوا ہر حرف لب کشا تحریر جسم صوت و ادا کی تھی کچھ دنوں شاخوں پہ کونپلوں کو زبانیں عطا ہوئیں یہ دلبری بھی دست صبا ...

    مزید پڑھیے

    تمہاری یاد میں ہم جشن غم منائیں بھی

    تمہاری یاد میں ہم جشن غم منائیں بھی کسی طرح سے مگر تم کو یاد آئیں بھی چھلک ہی پڑتے ہیں خود ہی گلاب آنکھوں کے وہ پاس آئیں تو یہ داستاں سنائیں بھی ہر ایک لمحہ یہی بیکلی سی ہے دل میں کہ ان کو یاد کریں ان کو بھول جائیں بھی جوان گیہوں کے کھیتوں کو دیکھ کر رو دیں وہ لڑکیاں کہ جنہیں ...

    مزید پڑھیے

    کبھی سوچا نہ تھا اتنی بھی سرشاری کبھی ہوگی

    کبھی سوچا نہ تھا اتنی بھی سرشاری کبھی ہوگی کہ تیرا نام پڑھتے ہی طلب گاری کبھی ہوگی کبھی روتے ہوئے ہنس دوں کبھی ہنستے ہوئے رو دوں کبھی محفل سجاؤں گی عزا داری کبھی ہوگی ستم ایجادو دیواریں جنوں اطوار ہی ٹھہریں ترے محفل میں آ جانے پہ بے زاری کبھی ہوگی بہت معروف رکھا تھا ترے ...

    مزید پڑھیے

    کچھ بول گفتگو کا سلیقہ نہ بھول جائے

    کچھ بول گفتگو کا سلیقہ نہ بھول جائے شیشے کے گھر میں تجھ کو بھی رہنا نہ بھول جائے وا رکھ سدا دریچۂ خود آگہی کہ تو اچھے تو کیا بروں کو پرکھنا نہ بھول جائے زخم نہاں کو شوق طلب سے جدا نہ کر ہوتا ہے روز و شب جو تماشا نہ بھول جائے کر دیں نہ بے طلب یہ مسلسل اذیتیں دل بھی کہیں وفا کا ...

    مزید پڑھیے

    تلاش دریا کی تھی بظاہر سراب دیکھا

    تلاش دریا کی تھی بظاہر سراب دیکھا وہ کون آنکھیں تھیں جن کی خاطر یہ خواب دیکھا جو رت بھی آئے ہمیں سے گریہ کا رزق مانگے ہماری صورت کسے زمیں انتخاب دیکھا ندامتیں بہتے آنسوؤں سے شرح نہ پائیں سفینہ اپنی دعا کا مقتل رکاب دیکھا برستی آنکھوں سے سوکھے تالاب بھر نہ پائیں یہ غم کا دریا ...

    مزید پڑھیے

    دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی

    دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی وہ خود نہیں پہ اس کا بلاوا تو ہے ابھی مانوس ہو چلی ہے اداسی سے زندگی پاؤں کے آبلوں کا نظارا تو ہے ابھی سچ ہے کہ زہر عشق تلطف گریز تھا چنگاریوں نے ورنہ پکارا تو ہے ابھی خوابوں کو در بدر ہی رکھا تھا نصیب نے آشفتگی میں جاں کا خسارہ تو ہے ...

    مزید پڑھیے

    کبھی بھلایا نہیں یاد بھی کیا نہیں ہے

    کبھی بھلایا نہیں یاد بھی کیا نہیں ہے یہ کیسا جرم ہے جس میں کوئی سزا نہیں ہے میں بات بات پہ رونے کا ماجرا پوچھوں وہ ہنس رہا ہے بتانے کو کچھ رہا نہیں ہے زمیں پہ آہ و بکا اور خون ناحق بھی زبان خلق یہ پوچھے ہے کیا خدا نہیں ہے کلام کرنے کو ناصح رہا نہ واعظ ہے میں کیا کہوں کہ مرے پاس بد ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 5