Kishwar Naheed

کشور ناہید

پاکستانی شاعرہ ، اپنے تانیثی خیالات اور مذہبی کٹرپن کی مخالفت کے لئے مشہور

Renowned woman poet from Pakistan known for her bold views on women and her strong stand against religious fundamentalism.

کشور ناہید کی نظم

    کچھ اگر ہے تو ملے

    خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائے مجھے سیرابئ دیدار سے گلزار کرے خواب وہ خواب کہ ہو جس تمازت کا فسوں زاد خواب وہ خواب کہ بن جائے شکست بے داد کتھئی رنگ گھلے سرمئی شام میں ایسے کہ شفق خون کی آنچوں سے دہک کر پھیلے آتے جاتے ہوئے لوگوں کی تگ و تاز بھی اندیشوں سے انجان لگے جاگے خدشے بھی خد ...

    مزید پڑھیے

    گدھے نے بجائی بانسری

    ہاتھوں میں دستانے پہنے گلے میں بش شرٹ ڈالی ناک نتھنے چوڑے کر کے گدھے نے دم اکڑائی چلا مٹک کے ٹھمک ٹھمک خود ہی گاتا ہنستا دیکھ کے اک لکڑی کا ٹکڑا گدھے نے جھک کے پکڑا منہ سے جو ہی لگائی اس نے بانسری بولی ''پیں پیں'' سن کے یہ آواز گلہری خوشی سے بولی ''چیں چیں'' اب تو جنگل جنگل ...

    مزید پڑھیے

    ہم نے خواہشوں کے سارے پرندے اڑا دیے ہیں

    شروع شروع میں اچنبھے اچھے لگتے تھے شوق بھی تھا اور دن بھی بھلے تھے اچھے لوگوں سے ملنے کا شوق جنون کی حد تک ہر لمحہ بیتاب لیے پھرتا تھا جب کوئی اپنا ہیرو اپنے آدرش کا پیکر سامنے آتا جی یہ چاہتا آنکھیں بچھائیں دل میں بٹھائیں باتیں سنیں اتنی باتیں سیل زماں سے اونچی باتیں دل کے گہرے ...

    مزید پڑھیے

    نفی

    میں تھی آئینہ فروش کوہ امید کے دامن میں اکیلی تھی زیاں کوشش ثریا کی تھی ہم دوش مجھے ہر روز ہمہ وقت تھی بس اپنی خبر میں تھی خود اپنے میں مدہوش میں وہ تنہا تھی جسے پیر ملانے کا سلیقہ بھی نہ تھا میں وہ خودبیں تھی جسے اپنے ہر اک رخ سے محبت تھی بہت میں وہ خود سر تھی جسے ہاں کے اجالوں ...

    مزید پڑھیے

    کڑے کوس

    حرف گویائی کی زنجیر میں جب قید ہوا اسم بنا عہد بنا نظم بنا قصۂ کام و دہن کا غم مطلوب بنا خوب و نا خوب بنا حرف نا گفتہ مگر ذہن کا آزار بنا دل کی دیوار بنا راہ دشوار بنا قصۂ شوق کی وارفتہ کہانی نہ بنا حیلۂ وصل کی غم دیدہ نشانی نہ بنا وار ہے منزل گویائی سبھی جانتے ہیں حرف نا گفتہ کے یہ ...

    مزید پڑھیے

    آنکھ مچولی

    بندر چوہا اور خرگوش ہنستے ہنستے تھے بے ہوش پاس تھی ایک گلہری بھی تھی چوہے سے موٹی بھی اور کتا تھا منہ کھولے ٹانگوں میں تھا نیکر پہنے سب سے بڑی تھی لومڑی تھی اس کی موٹی کھوپڑی یہ سب ہی پیار سے رہتے تھے سب ناچتے گاتے ہنستے تھے اک دن وہ بولے خوش ہو کے ہم آنکھ مچولی کھیلیں گے جو پکڑا ...

    مزید پڑھیے

    بطخ اور سانپ

    ہرن کا ایک چھوٹا بچہ دریا کے کنارے آ نکلا وہاں پہ ایک بطخ بھی تھی مچھلی سے وہ یہ کہتی تھی میں تو دریا میں نہاتی ہوں جب چاہوں میں اڑ جاتی ہوں تھک جاؤں میں تو بیٹھ رہوں جب چاہوں میں سبزے پہ چلوں تم تو دریا کی مچھلی ہو پانی میں رہتی بستی ہو تم میری طرح سے چل نہ سکو تم میری طرح ہل جل نہ ...

    مزید پڑھیے

    قید میں رقص

    سب کے لیے نا پسندیدہ اڑتی مکھی کتنی آزادی سے میرے منہ اور میرے ہاتھوں پر بیٹھتی ہے اور اس روزمرہ سے آزاد ہے جس میں میں قید ہوں میں تو صبح کو گھر بھر کی خاک سمیٹتی جاتی ہوں اور میرا چہرہ خاک پہنتا جاتا ہے دوپہر کو دھوپ اور چولھے کی آگ یہ دونوں مل کر وار کرتی ہیں گردن پہ چھری اور ...

    مزید پڑھیے

    ایک نظم اجازتوں کے لیے

    تم مجھے پہن سکتے ہو کہ میں نے اپنے آپ کو دھلے ہوئے کپڑے کی طرح کئی دفعہ نچوڑا ہے کئی دفعہ سکھایا ہے تم مجھے چبا سکتے ہو کہ میں چوسنے والی گولی کی طرح اپنی مٹھاس کی تہہ گھلا چکی ہوں تم مجھے رلا سکتے ہو کہ میں نے اپنے آپ کو قتل کر کے اپنے خون کو پانی پانی کر کے آنکھوں میں جھیل بنا لی ...

    مزید پڑھیے

    شکست رنگ

    مجھے مغلوب کرنے کو مرے جذبات کے اندوختہ حیلوں کو اکسا کر وہ کہتے ہیں تری آنکھوں تری بانہوں میں جنت کے شگوفوں کی مہک آسائشوں کی لذتوں کا لمس رچتا ہے مگر اب خواہشیں پاؤں پکڑتی ہیں نئے خوابوں کے جالوں میں الجھتے سانس کہتے ہیں کبھی تو پھیلے ہاتھوں کے تموج میں سمٹ جانے کی ترغیب و ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3