یہ دشت فراموشی ٹھہرنے نہیں دیتا
یہ دشت فراموشی ٹھہرنے نہیں دیتا
لیکن در خواہش کو بھی کھلنے نہیں دیتا
یہ رسم ہے دیوار و در گریہ کی لیکن
دریوزہ گر خواب تو رونے نہیں دیتا
آشوب ہے ایسا کہ سراسیمہ ہے وحشت
یہ عجز بیاں زخم بھی دھونے نہیں دیتا
ہاں منزل امید بھی نزدیک تھی لیکن
غم خانۂ جاناناں بہلنے نہیں دیتا
آنکھوں میں وہی رنج اسیری ہے مسلط
جو حشر بپا ہونا تھا ہونے نہیں دیتا
بے نام رہی خواہش دیدار ہمیشہ
شبنم کی طرح وہ مجھے ہنسنے نہیں دیتا
آنگن میں لہو دیکھ کے روتی نہیں آنکھیں
یہ دل تو سلگتا ہے پہ جلنے نہیں دیتا