سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر پا رکھنا
سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر پا رکھنا نہیں ہے سہل ہوا سے مقابلہ رکھنا اسے یہ زعم کہ آغوش گل بھی اس کی ہے جو چاہتا ہے پرندوں کو بے نوا رکھنا سبک نہ ہو یہ نگہ داریٔ جنوں ہم سے یہ دیکھنے کو اسے سامنے بٹھا رکھنا بکھر نہ جانا جراحت نوازئی شب پر مشام جاں کو ابھی خواب آشنا رکھنا وہ ...