Kishwar Naheed

کشور ناہید

پاکستانی شاعرہ ، اپنے تانیثی خیالات اور مذہبی کٹرپن کی مخالفت کے لئے مشہور

Renowned woman poet from Pakistan known for her bold views on women and her strong stand against religious fundamentalism.

کشور ناہید کی غزل

    سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر پا رکھنا

    سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر پا رکھنا نہیں ہے سہل ہوا سے مقابلہ رکھنا اسے یہ زعم کہ آغوش گل بھی اس کی ہے جو چاہتا ہے پرندوں کو بے نوا رکھنا سبک نہ ہو یہ نگہ داریٔ جنوں ہم سے یہ دیکھنے کو اسے سامنے بٹھا رکھنا بکھر نہ جانا جراحت نوازئی شب پر مشام جاں کو ابھی خواب آشنا رکھنا وہ ...

    مزید پڑھیے

    گریہ، مایوسی، غم ترک وفا کچھ نہ رہا

    گریہ، مایوسی، غم ترک وفا کچھ نہ رہا زندگی رہ گئی جینے کا مزا کچھ نہ رہا روشنی تھی تو ہر اک شے کی حقیقت تھی عیاں تیرگی میں مری آنکھوں کے سوا کچھ نہ رہا پیرہن رنگ برنگے نکل آئے اتنے نو دمیدہ گل شبو میں چھپا کچھ نہ رہا کھا گئی خاک کو ہی خاک کریں کسی سے گلہ کیا کریدیں کہ تہ خاک چھپا ...

    مزید پڑھیے

    تشنگی اچھی نہیں رکھنا بہت

    تشنگی اچھی نہیں رکھنا بہت روزن گل سے اسے تکنا بہت دیکھ کر جس شخص کو ہنسنا بہت سر کو اس کے سامنے ڈھکنا بہت جس کی آنکھوں میں نہ جھانکا جائے گا اس کی ہی تحریر کو پڑھنا بہت موجۂ ریگ رواں ہے زیر آب اپنی ہستی دیکھ کر بڑھنا بہت برف کی مانند جینا عمر بھر ریت کی صورت مگر تپنا بہت عمر ...

    مزید پڑھیے

    اپنے لہو سے نام لکھا غیر کا بھی دیکھ

    اپنے لہو سے نام لکھا غیر کا بھی دیکھ زندہ ہے تو شقاوت دشت بلا بھی دیکھ آنکھوں کے آئینوں کا تو پانی اتر گیا اب جسم چوب خشک ہے یہ سانحہ بھی دیکھ ہوتی ہے زندگی کی حرارت رگوں میں سرد سوکھے ہوئے بدن پہ یہ چمڑا کسا بھی دیکھ بیتابیوں کو سینے کے اندر سمیٹ لے فتنے کو اپنی حد سے مسلسل ...

    مزید پڑھیے

    شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئی

    شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئی اے محبت تجھے دینے کو سلامی آئی تشنگی اتنی کہ دریا ہے مری آنکھوں میں نا شناسا ترے ہونے کی گواہی آئی جس سے منسوب ہوا میرے خیالوں کا سفر ڈھونڈنے اس کو مرے ساتھ ہوا بھی آئی مجھ میں موجود ہے وہ اور نہیں ہے ظاہر اس کی خواہش در و دیوار بناتی آئی زخم ...

    مزید پڑھیے

    خیال ترک تعلق کو ٹالتے رہیے

    خیال ترک تعلق کو ٹالتے رہیے ہوا میں کوئی ہیولیٰ اچھالتے رہئے پرانے آشنا چہروں کو یاد کر کر کے ہجوم غم میں بھی دل کو سنبھالتے رہئے تمام عمر یوں ہی کیجے حسرتوں کا شمار تمام عمر یوں ہی دکھ سنبھالتے رہئے سجا کے روز نئی محفلیں نئے چہرے زر فسردہ دلی کو اجالتے رہئے رہیں نہ دشت جو ...

    مزید پڑھیے

    کبھی تو آ مری آنکھوں کی روشنی بن کر

    کبھی تو آ مری آنکھوں کی روشنی بن کر زمین خشک کو سیراب کر نمی بن کر رچا ہوا ہے تری کم نگاہیوں کا کرم نشے کی طرح مرے دل میں سر خوشی بن کر کبھی تو آ تپش جاں گسل ہی دینے کو کبھی گزر انہی راہوں سے اجنبی بن کر خوشا کہ اور ملا غم کا تازیانہ ہمیں خوشا وہ درد جو چھایا ہے نغمگی بن کر تمہیں ...

    مزید پڑھیے

    تجھ سے بہت قریب بھی تنہا بھی تھے ہمیں

    تجھ سے بہت قریب بھی تنہا بھی تھے ہمیں تھے آبروئے عشق پہ رسوا بھی تھے ہمیں آنکھوں میں خون تھا کہ زمیں تھی لہو لہو زنجیر غم پہن کے تماشا بھی تھے ہمیں ہر ہر قدم پہ اک نئی دیوار تھی کھڑی اس رات کے سفر میں اجالا بھی تھے ہمیں معلوم تھا یہ عشق نہیں مات کا ہے کھیل پسپا ہوئے تھے ہم ہی ...

    مزید پڑھیے

    مجھ کو دریوزہ گر خواب بنا دیتا ہے

    مجھ کو دریوزہ گر خواب بنا دیتا ہے جب بھی آتا ہے مری پیاس بڑھا دیتا ہے پوچھ لیتا ہے مرا حال وہ دیواروں سے اپنے ہی ہاتھ سے تصویر بنا دیتا ہے اس نے سیکھا ہی نہیں خواب میں رہنے کا سفر ایسا کوئی نہیں جو آ کے جگا دیتا ہے شام ہوتے ہی سنورتا ہے مری آنکھوں میں یہ نظارہ ہی مجھے آگ بنا دیتا ...

    مزید پڑھیے

    ہری تھی شاخ تو بیٹھا نہ اس پہ پنچھی کیوں

    ہری تھی شاخ تو بیٹھا نہ اس پہ پنچھی کیوں لگے ہے اجڑے ہوئے خواب سی یہ بستی کیوں مجھے خبر ہے مرے گھر میں سانپ آنکھیں ہیں وگرنہ غم کے خزینے چھپا کے رکھتی کیوں تمہی سے تہمت عالم کو نسبتیں موسوم تمہیں کو کہتے ہیں سب لوگ سب سے اچھی کیوں خزاں کو میرے ہی خوابوں کے نام کیوں لکھا زمیں نے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 5