کبھی سوچا نہ تھا اتنی بھی سرشاری کبھی ہوگی
کبھی سوچا نہ تھا اتنی بھی سرشاری کبھی ہوگی
کہ تیرا نام پڑھتے ہی طلب گاری کبھی ہوگی
کبھی روتے ہوئے ہنس دوں کبھی ہنستے ہوئے رو دوں
کبھی محفل سجاؤں گی عزا داری کبھی ہوگی
ستم ایجادو دیواریں جنوں اطوار ہی ٹھہریں
ترے محفل میں آ جانے پہ بے زاری کبھی ہوگی
بہت معروف رکھا تھا ترے خوابوں نے در پردہ
سنانا چاہیں حال دل تو دشواری کبھی ہوگی
نہیں معلوم تھا غول رقیباں ساتھ چلتا ہے
نہ کوئی حال پوچھے گا نہ غم خواری کبھی ہوگی