کبھی بھلایا نہیں یاد بھی کیا نہیں ہے

کبھی بھلایا نہیں یاد بھی کیا نہیں ہے
یہ کیسا جرم ہے جس میں کوئی سزا نہیں ہے


میں بات بات پہ رونے کا ماجرا پوچھوں
وہ ہنس رہا ہے بتانے کو کچھ رہا نہیں ہے


زمیں پہ آہ و بکا اور خون ناحق بھی
زبان خلق یہ پوچھے ہے کیا خدا نہیں ہے


کلام کرنے کو ناصح رہا نہ واعظ ہے
میں کیا کہوں کہ مرے پاس بد دعا نہیں ہے


بس اب تو آنکھ میں صحرا ہی جم گیا آ کے
سمجھ لو خواب بھی دہلیز پہ رکھا نہیں ہے


قدم قدم پہ وہی تلملاتی خواہش ہے
پیام لانے کو کوئی بھی دل ربا نہیں ہے


مری اداسی مرے کام آ سکی نہ کبھی
بس اب سوال بھی کرنے کا حوصلہ نہیں ہے


رقیب خواہش موجودہ سن لیا تو نے
چمن بہت ہیں مگر کوئی دیکھتا نہیں ہے