دل نے چاہا تھا کہ ہو آبلہ پائی رخصت
دل نے چاہا تھا کہ ہو آبلہ پائی رخصت
زندگی دے کے ہوئی شعلہ فشانی رخصت
تم نے جب شمع بجھائی تو سمجھ میں آیا
ایک موہوم سا رشتہ تھا سو وہ بھی رخصت
میں اداسی سر بازار بھی لاؤں ایسے
جیسے پانی کی تمنا میں ہو کشتی رخصت
میرے اصرار پہ موجود تھا گھر پہ لیکن
اس نے خاموش لباسی میں لکھی تھی رخصت
تیری تائید کی تصویر سے جی اٹھے تھے
نہیں معلوم تھا یہ ریت ہے پانی رخصت
میں حوالہ تری تحریر کا کس نام سے دوں
مجھ سے تو مانگ چکا حرف تعلی رخصت