Kishwar Naheed

کشور ناہید

پاکستانی شاعرہ ، اپنے تانیثی خیالات اور مذہبی کٹرپن کی مخالفت کے لئے مشہور

Renowned woman poet from Pakistan known for her bold views on women and her strong stand against religious fundamentalism.

کشور ناہید کی غزل

    زخم بھی تازہ تھا اور اس پہ ہوا بھی تازہ

    زخم بھی تازہ تھا اور اس پہ ہوا بھی تازہ دل نے رکھا تھا مگر رخش دعا بھی تازہ تر بہ تر ہے مرے ہاتھوں میں وہی جامنی رنگ تم نے پوچھا تھا کہ ہوتی ہے گھٹا بھی تازہ اب تلک ہے وہی جلتا ہوا صحرا وہی میں اب تلک ہے تپش شوق ندا بھی تازہ کس بہانے سے تجھے بھول رہوں اور خوش ہوں پھر بنا لے گا یہ ...

    مزید پڑھیے

    آغوش گل میں لذت صحبت نہیں رہی

    آغوش گل میں لذت صحبت نہیں رہی کس سے کہوں کہ قوس محبت نہیں رہی موجود ہوں بساط تمنا کے دشت میں پہلو میں آبروئے ہزیمت نہیں رہی دیکھا اسے تو قرض وفا یاد آ گیا باتوں میں اس کی خوئے ارادت نہیں رہی میں بھول کے بھی اس کی گلی میں نہ جاؤں گی پہچانتی ہوں دل میں مروت نہیں رہی شاموں کے سائے ...

    مزید پڑھیے

    جب میں نہ ہوں تو شہر میں مجھ سا کوئی تو ہو

    جب میں نہ ہوں تو شہر میں مجھ سا کوئی تو ہو دیوار زندگی میں دریچہ کوئی تو ہو اک پل کسی درخت کے سائے میں سانس لے سارے نگر میں جاننے والا کوئی تو ہو دیکھے عجیب رنگ میں تنہا ہر ایک ذات ان گہرے پانیوں میں اترتا کوئی تو ہو ڈھونڈوگے جس کو دل سے وہ مل جائے گا ضرور آئیں گے لوگ آپ تماشا ...

    مزید پڑھیے

    کچھ دن تو ملال اس کا حق تھا

    کچھ دن تو ملال اس کا حق تھا بچھڑا تو خیال اس کا حق تھا وہ رات بھی دن سی تازہ رکھتا شبنم کا جمال اس کا حق تھا وہ طرز بیاں میں چاندنی تھا تاروں سے وصال اس کا حق تھا تھا اس کا خرام موج دریا لہروں کا جلال اس کا حق تھا بارش کا بدن تھا اس کا ہنسنا غنچے کا خصال اس کا حق تھا رکھتا تھا ...

    مزید پڑھیے

    یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہو تماشا ہی نہ ہو

    یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہو تماشا ہی نہ ہو راس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو زندگی چاہیں تو خوابوں سے سوا کچھ نہ ملے ڈوبنا چاہیں تو حاصل ہمیں دریا ہی نہ ہو دل کو خوش کرنے کو ڈھونڈے ہیں بہانے ہم نے اب پلٹ کر ذرا دیکھیں کہیں آیا ہی نہ ہو اب تو بس ساعت گم کردہ کی یادیں باقی یہ وہ ...

    مزید پڑھیے

    کچھ اتنے یاد ماضی کے فسانے ہم کو آئے ہیں

    کچھ اتنے یاد ماضی کے فسانے ہم کو آئے ہیں کہ جن راہوں میں اجڑے تھے انہی پر لوٹ آئے ہیں بڑا پیارا ہے وہ غم جس کو تیرے چاہنے والے زمانے بھر کی خوشیوں کے تصدق مانگ لائے ہیں دہکتا ہے کلیجے میں کسک کا کوئلہ اب تک ابھی تک دل کے بام و در پہ ہجر و غم کے سائے ہیں ہمیں دیکھو ہمارے پاس بیٹھو ...

    مزید پڑھیے

    کہانیاں بھی گئیں قصہ خوانیاں بھی گئیں

    کہانیاں بھی گئیں قصہ خوانیاں بھی گئیں وفا کے باب کی سب بے زبانیاں بھی گئیں وہ بازیابیٔ غم کی سبیل بھی نہ رہی لٹا یوں دل کہ سبھی بے ثباتیاں بھی گئیں ہوا چلی تو ہرے پتے سوکھ کر ٹوٹے جو صبح آئی تو ہیرا نمائیاں بھی گئیں وہ میرا چہرہ مجھے آئنے میں اپنا لگے اسی طلب میں بدن کی نشانیاں ...

    مزید پڑھیے

    تجھ سے وعدہ عزیز تر رکھا

    تجھ سے وعدہ عزیز تر رکھا وحشتوں کو بھی اپنے گھر رکھا اپنی بے چہرگی چھپانے کو آئینے کو ادھر ادھر رکھا اک ترا غم ہی اپنی دولت تھی دل میں پوشیدہ بے خطر رکھا آرزو نے کمال پہچانا اور تعلق کو طاق پر رکھا اس قدر تھا اداس موسم گل ہم نے آب رواں پہ سر رکھا اپنی وارفتگی چھپانے کو شوق نے ...

    مزید پڑھیے

    مری آنکھوں میں دریا جھولتا ہے

    مری آنکھوں میں دریا جھولتا ہے یہ پانی اب کنارہ ڈھونڈتا ہے یہ پانی ریت کی تہہ سے گزر کر تعلق ہے تو رستہ ڈھونڈتا ہے تعلق کو نہ سمجھو جاودانی یہ آئینہ ہوا سے ٹوٹتا ہے ہماری پیاس رخصت چاہتی ہے پیالہ ہاتھ سے اب چھوٹتا ہے

    مزید پڑھیے

    وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا

    وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا دل کو مگر یقین کسی پر ہوا نہ تھا ہم کو تو احتیاط غم دل عزیز تھی کچھ اس لیے بھی کم نگہی کا گلا نہ تھا دست خیال یار سے پھوٹے شفق کے رنگ نقش قدم بھی رنگ حنا کے سوا نہ تھا ڈھونڈا اسے بہت کہ بلایا تھا جس نے پاس جلوہ مگر کہیں بھی صدا کے سوا نہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 5 سے 5