لالہ و گل کا لہو لاکھ بہایا جائے
لالہ و گل کا لہو لاکھ بہایا جائے
یہ چمن چھوڑ کے ہم سے تو نہ جایا جائے
پھر رہے ہیں سبھی چہروں پہ نقابیں ڈالے
کس کو حالات کا آئینہ دکھایا جائے
رنگ پر جشن بہاراں جبھی آ سکتا ہے
پھول کانٹوں میں کوئی فرق نہ پایا جائے
اپنی تہذیب ہی اخلاص و رواداری ہے
اس کو ہٹنے سے بہ ہر حال بچایا جائے
سب برابر کے ہیں حق دار چمن سازی میں
پھر کسے حرف غلط کہہ کے مٹایا جائے
خود بخود قوم کی تقدیر سنور جائے گی
پہلے بگڑا ہوا ماحول بنایا جائے
جی رہے ہیں سبھی احساس کچل کر اپنا
اب کسے درد کا احساس دلایا جائے
صرف ہم اٹھ گئے اوپر تو کوئی شان نہیں
شان تو یہ ہے کہ گرتوں کو اٹھایا جائے
خون بستا ہے تمناؤں کا آنکھیں کیا ہیں
کون سا خواب نگاہوں میں بسایا جائے
آدمیت کے چراغوں کی لویں تیز کرو
نہ ہو ایسا کہ بدن چھوڑ کے سایہ جائے
منزلیں ایسی بھی ہیں فکر بشر سے آگے
جن کی حد میں نہ اشارہ نہ کنایہ جائے
شوقؔ دل نام تو ہے ایک چمن زخموں کا
سلسلہ اس کا مگر کس سے ملایا جائے