دل ہے کیوں گریۂ بے اشک سے پر نور بہت

دل ہے کیوں گریۂ بے اشک سے پر نور بہت
تم بہت پاس ہو یا خود سے ہیں ہم دور بہت


جلوۂ حسن سے دل کیا رہے معمور بہت
موج ساحل کے کبھی پاس کبھی دور بہت


نام اسی فرق کا ہے کشمکش غم شاید
تم کرم کرتے ہو کم کم ہمیں منظور بہت


استطاعت ہے جنہیں ان کو کچھ احساس نہیں
جن کا احساس ہے زندہ وہ ہیں مجبور بہت


مرگ بے فاصلہ ہے با خبری کا جینا
اپنی غفلت سے ہے جو کوئی ہے مسرور بہت


کب سے ہوں ہم قدم وقت گریزاں لیکن
دور ہے منزل مقصود بدستور بہت


صرف آلام سے ہی دل نہیں ہوتا غمگیں
بعض خوشیاں بھی بنا دیتی ہیں رنجور بہت


کیا نہ کرتی رہی دنیا ہمیں اپنانے کو
کم دماغی سے رہے کچھ ہمی مغرور بہت


دل میں رکھ کر تمہیں گمنام کے گمنام ہیں ہم
طور اک برق تجلی سے ہے مشہور بہت


کہیں ہنستے ہوئے چہروں سے نہ دھوکا کھانا
دل ٹٹولو گے تو مل جائیں گے ناسور بہت


زندگی وقت کا خود سب سے بڑا حادثہ ہے
جس کو دیکھو وہ ہے حالات سے مجبور بہت


شوقؔ کیا جلوۂ بے پردہ کی خواہش کیجے
ہوش اڑانے کو ہے اک جلوۂ مستور بہت