ملنے کی طرح ہم سے وہ اب تک کہاں ملے
ملنے کی طرح ہم سے وہ اب تک کہاں ملے
کم کم ملے کشیدہ ملے بد گماں ملے
اے کاش زندگی کو وہ جذب نہاں ملے
دیکھے مجھے کوئی تو تمہارا نشاں ملے
کس حوصلے سے ہم نے بسر کی ہے زندگی
طوفاں سے بھی ملے تو بعزم جواں ملے
نبض چمن پہ بعد میں رکھیں گے انگلیاں
پہلے ترا مزاج تو اے باغباں ملے
راحت کی سانس رہزن ذوق سفر ہوئی
لمحے مسرتوں کے غموں سے گراں ملے
جب صحبت چمن سے ہی دل اپنا بجھ گیا
کرنا ہے کیا بہار ملے یا خزاں ملے
کیا جانے کیوں کسی سے دل اپنا نہ مل سکا
ملنے کے واسطے تو کئی مہرباں ملے
دریا لہو کا شہر کی گلیوں میں تھا رواں
اخبار میں لکھے ہوئے امن و اماں ملے
وہ پیش پیش تھے جنہیں ہوش سفر نہ تھا
جو منزل آشنا تھے پس کارواں ملے
ہر غم سے مستقل ہے تعلق حیات کا
دیکھیں کہاں سے سلسلۂ داستاں ملے
پھولوں کو لب کشائی کا حق ہے چمن میں شوقؔ
زخموں کو کم سے کم کبھی اذن بیاں ملے