کمال ہوش ہے جن کو وہ دیوانے سے لگتے ہیں

کمال ہوش ہے جن کو وہ دیوانے سے لگتے ہیں
حقائق زندگی کے آج افسانے سے لگتے ہیں


سب اپنے ہیں بظاہر جانے پہچانے سے لگتے ہیں
کوئی وقت آ پڑے تو صاف بیگانے سے لگتے ہیں


شرافت کے لبادے جب اتر جاتے ہیں جسموں سے
تو یہ گنجان شہر آباد ویرانے سے لگتے ہیں


بہاروں میں بھی گلشن کی اداسی کیوں نہیں جاتی
یہاں کچھ سوختہ جانوں کے کاشانے سے لگتے ہیں


بنائے جاتے ہیں انسانیت سوزی کے منصوبے
یہی آئینہ خانے معصیت خانے سے لگتے ہیں


شعور زندگانی تربیت پاتا ہے صدموں سے
حوادث حوصلہ مندوں کے نذرانے سے لگتے ہیں


بکھرتے ٹوٹتے خوابوں کو دل سے کیا لگا رکھیں
یہ ایسے زخم ہیں جو زخم بھر جانے سے لگتے ہیں


ادائے سادگی بھی ایک فن کاری ہے شوقؔ ان کی
وہ سب کچھ جانتے ہیں لیکن انجانے سے لگتے ہیں