Khaleel Husain Balooch

خلیل حسین بلوچ

خلیل حسین بلوچ کی غزل

    آگ آنگن میں خود لگا دی ہے

    آگ آنگن میں خود لگا دی ہے جس نے انصاف کی ندا دی ہے بھائی دو بٹ گئے زمینوں میں گھر میں دیوار اک بنا دی ہے تم ہی ابلیس کے سپاہی ہو تم نے تقسیم کو ہوا دی ہے اک صدا اس نے ان سنی کر دی بارہا ہم نے کب صدا دی ہے روشنی ہجر میں اذیت تھی جب بھی شمع جلی بجھا دی ہے جھوٹ کی آر پار لذت نے سچ کی ...

    مزید پڑھیے

    ہر وقت ستاتا ہے سدھر کیوں نہیں جاتا

    ہر وقت ستاتا ہے سدھر کیوں نہیں جاتا وہ سوچ کے پردے سے اتر کیوں نہیں جاتا کچھ لوگ محلے کے یہی سوچ رہے ہیں گر ہوش پہ قائم ہوں تو گھر کیوں نہیں جاتا جس سمت رواں ہیں یہ دھواں دھول مسافر اس سمت مرا ذوق سفر کیوں نہیں جاتا ہر عہد محبت پہ پشیماں ہے وہ آخر کیوں عذر تراشے ہے مکر کیوں نہیں ...

    مزید پڑھیے

    راہ تاریک میں کرتے ہیں اجالے لے جا

    راہ تاریک میں کرتے ہیں اجالے لے جا ٹھہر دیتا ہوں تجھے پیر کے چھالے لے جا آمد وصل پہ بندش ہے انوکھی کوئی ہجر سرکار کے پھونکے ہوئے تالے لے جا میرے اشعار غم جاں کا ثمر ہیں آخر میں نے ہیں درد بہت ناز سے پالے لے جا فتوائے فسق لگا شوق سے لیکن مجھ سے اپنے دو چار گناہوں کے حوالے لے ...

    مزید پڑھیے

    حالات کی چیخوں پہ کبھی کان دھریں گے

    حالات کی چیخوں پہ کبھی کان دھریں گے ہر خوف میں سہمی ہوئی آواز سنیں گے یہ لازم و ملزوم نہیں ہوش میں آؤں کب خمر تھی آنکھیں ہیں کئی روز لگیں گے افلاک سے لوٹی ہے دعا آ کے ذرا دیکھ ہر حرف کے چہرے پہ تجھے سوگ دکھیں گے نا امن کی خواہش کو کبھی خوف سمجھنا میداں میں ہمیں دیکھ ترے ہوش اڑیں ...

    مزید پڑھیے

    دیپ یادوں کے دفینوں پہ جلا کر سوئے

    دیپ یادوں کے دفینوں پہ جلا کر سوئے خود پہ افتاد نئی روز اٹھا کر سوئے دل کے ارمان کئی اہل سخن رات گئے ایک گمنام اداسی کو سنا کر سوئے پھر شب ہجر کے سینے پہ لگائی ٹھوکر شعر دو چار نئے پھر سے بنا کر سوئے مجھ کو اک بحر اذیت کا حوالہ دے کر شب کہیں وصل کے دریا میں نہا کر سوئے وہ تری ہاں ...

    مزید پڑھیے

    تیرے انداز تکلم کا سہارا لے کر

    تیرے انداز تکلم کا سہارا لے کر جیت آئیں گے جہاں شوق تمہارا لے کر قبلۂ اہل جنوں میری ریاضت کا اجر راہ پرخار کا لوٹا ہوں نظارا لے کر گور کن درد کا مرقد تو بنانا لیکن ہجر مہجور تو پہلو سے ہمارا لے کر لوح افلاک پہ روشن ہے ہمارا چہرہ عشق پر نور کی عزت کا ستارہ لے کر وہ مرے بعد زمانے ...

    مزید پڑھیے

    دل گستاخ کو لازم ہے جلایا ہوتا

    دل گستاخ کو لازم ہے جلایا ہوتا عشق معصوم تھا جھگڑے میں نہ لایا ہوتا تیری تعظیم میں اٹھی ہیں جو آہیں فوراً اک نظر دیکھ کے ان کو تو بٹھایا ہوتا لوگ جو عشق پہ گھر بار لٹا کر آئے وارث شعر و سخن ان کو بنایا ہوتا میرے وجدان میں رہتے ہیں کسی یاد کے دکھ خواب کچھ بھیج کے یادوں کو سلایا ...

    مزید پڑھیے

    نظر جھکی ہے یہ سر تمہارا اگر جھکا ہے

    نظر جھکی ہے یہ سر تمہارا اگر جھکا ہے نظر سے گرنے کے بعد کوئی کہاں اٹھا ہے یقیں نہیں گر لبوں کو اذن کلام دے اب تمہارے ہونٹوں پہ نام میرا کہیں رکا ہے اسیر زادے سبھی قفس کے حمایتی ہیں غلام زادے رہیں گے آخر یہی سزا ہے خدارا تہمت لگا نہیں میں وہاں نہیں تھا جہاں قبیلہ تری اناؤں کا جا ...

    مزید پڑھیے

    بے رحم دل کی حماقتوں کے اسیر ہیں

    بے رحم دل کی حماقتوں کے اسیر ہیں تبھی سرنگوں ہیں ندامتوں کے اسیر ہیں شب وصل عشق کی چاندنی کا غرور تھے وہی لوگ ہجر کی وحشتوں کے اسیر ہیں ہوئے سر بکف ہیں جو آندھیوں کی اڑان پر یہ چراغ عشق کی حرمتوں کے اسیر ہیں جنہیں اپنی قوت ضبط پہ کبھی ناز تھا وہی اشک درد کی شدتوں کے اسیر ...

    مزید پڑھیے

    تمہارے درد کی دولت اٹھائے جاتے ہیں

    تمہارے درد کی دولت اٹھائے جاتے ہیں چلے ہیں ایسے کہ جیسے پرائے جاتے ہیں سنا ہے جب سے انا الحق کا ماجرا یارو عطائے عشق کو فتنہ بتائے جاتے ہیں تمہارے ہجر کے ملبے میں دب گیا کوئی تمہارے روگ یہ باتیں بنائے جاتے ہیں جفا کے دوش پہ جلتے ہوئے چراغ مجھے ستم کی نوک پہ جینا سکھائے جاتے ...

    مزید پڑھیے