دیپ یادوں کے دفینوں پہ جلا کر سوئے
دیپ یادوں کے دفینوں پہ جلا کر سوئے
خود پہ افتاد نئی روز اٹھا کر سوئے
دل کے ارمان کئی اہل سخن رات گئے
ایک گمنام اداسی کو سنا کر سوئے
پھر شب ہجر کے سینے پہ لگائی ٹھوکر
شعر دو چار نئے پھر سے بنا کر سوئے
مجھ کو اک بحر اذیت کا حوالہ دے کر
شب کہیں وصل کے دریا میں نہا کر سوئے
وہ تری ہاں میں سدا ہاں ہی ملانے والے
خود پہ اب داغ منافق کا سجا کر سوئے
کل گئے رات جوانی سے رہائی مانگی
بچپنے دور کو پہلو میں لٹا کر سوئے
رب الارباب کی جاری ہوں عطائیں مجھ پہ
میرے احباب اگر مجھ کو دعا کر سوئے
دن کسی یاد کے سائے میں گزارا لیکن
رات ہم درد کے قدموں میں بچھا کر سوئے
تیرے اطراف ہی گھومے ہے تخیل میرا
میری ہر ایک غزل تجھ کو سلا کر سوئے
رات بھر نیند سے رہتی ہے لڑائی میری
تو مرے یار اگر مجھ کو بھلا کر سوئے
عشق تو خیر خلیلؔ اب بھی بلائے لیکن
کس میں ہمت ہے شب ہجر منا کر سوئے