تیرے انداز تکلم کا سہارا لے کر
تیرے انداز تکلم کا سہارا لے کر
جیت آئیں گے جہاں شوق تمہارا لے کر
قبلۂ اہل جنوں میری ریاضت کا اجر
راہ پرخار کا لوٹا ہوں نظارا لے کر
گور کن درد کا مرقد تو بنانا لیکن
ہجر مہجور تو پہلو سے ہمارا لے کر
لوح افلاک پہ روشن ہے ہمارا چہرہ
عشق پر نور کی عزت کا ستارہ لے کر
وہ مرے بعد زمانے کو رلا کر بولا
دل برباد کا آیا ہوں خسارہ لے کر
شہر کا شہر شرابوں سے سوا بہکا ہے
آپ کی آنکھ سے ہلکا سا اشارہ لے کر
درد دلگیر کی شدت کا نظارا کرنا
سرسری ہجر منا لینا ادھارا لے کر
ہجر معشوق ہے طولانی تو اب عمر خلیلؔ
حضرت خضر کی آؤں گا دوبارہ لے کر