ہر وقت ستاتا ہے سدھر کیوں نہیں جاتا

ہر وقت ستاتا ہے سدھر کیوں نہیں جاتا
وہ سوچ کے پردے سے اتر کیوں نہیں جاتا


کچھ لوگ محلے کے یہی سوچ رہے ہیں
گر ہوش پہ قائم ہوں تو گھر کیوں نہیں جاتا


جس سمت رواں ہیں یہ دھواں دھول مسافر
اس سمت مرا ذوق سفر کیوں نہیں جاتا


ہر عہد محبت پہ پشیماں ہے وہ آخر
کیوں عذر تراشے ہے مکر کیوں نہیں جاتا


اک خوف سا دشمن کی صفوں پہ ہے مسلط
سر کاٹ چکے ہیں تو میں مر کیوں نہیں جاتا


افلاک سے آئی تھی ندا کون کھڑا ہے
گردن بھی کٹی ہے تو بکھر کیوں نہیں جاتا


زندہ ہے اگر زندگی نے پھول بچھائے
مرنا ہے تو پھر موت کا ڈر کیوں نہیں جاتا


کیوں یاد کی چوکھٹ پہ سر عام کھڑا ہے
اس خالی مکاں سے تو گزر کیوں نہیں جاتا


مانا کہ تو رکھتا ہے عجب ایک اداسی
اس بحر اذیت سے بکھر کیوں نہیں جاتا


یہ ہجر سمٹتا ہی ہجر پھیلتا جائے
خیرات سے تیری یہ اثر کیوں نہیں جاتا


تنہا تو نہیں زیست کی راہوں میں خلیل اب
پھر اس کا مقدر بھی سنور کیوں نہیں جاتا